Showing posts with label حیدر سلیم. Show all posts
Showing posts with label حیدر سلیم. Show all posts

Monday, 15 July 2024

علم اٹھا کر وہ حق نشانوں سے آ رہے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


علم اٹھا کر وہ حق نشانوں سے آ رہے ہیں 

حسینؑ جگ میں کئی زمانوں سے آ رہے ہیں 

ہدف یزیدوں کا آج بھی ہیں رسول زادے 

کہ تیر اب بھی انہی کمانوں سے آ رہے ہیں 

ابھی بھی بازار شام ویسا ہی ظلم خُو ہے 

ابھی بھی پتھر انہی مکانوں سے آ رہے ہیں 

Thursday, 11 July 2024

ہجوم قاتلاں ہوتے ہوئے بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہجوم قاتلاں ہوتے ہوئے بھی

کہاں زینبؑ وہاں ہوتے ہوئے بھی

نہ آئے کیوں مرے عباسؑ اب تک

سروں کا سائباں ہوتے ہوئے بھی

یہ کس کی پیاس ہے تیروں سے چھلنی

لبِ آبِ رواں ہوتے ہوئے بھی

Thursday, 23 May 2024

خواب خیموں کو بچانے میں بہت دیر لگی

 خواب خیموں کو بچانے میں بہت دیر لگی

راکھ کے ڈھیر اٹھانے میں بہت دیر لگی

شہر کا شہر ہی بازار میں در آیا تھا

بھیڑ لوگوں کی ہٹانے میں بہت دیر لگی

دو دھڑے ہو تو گئے ایک ہی چھت کے نیچے

دل کو دیوار اٹھانے میں بہت دیر لگی

Monday, 24 January 2022

کسی گھر میں کوئی پتھر گرا تھا

 کسی گھر میں کوئی پتھر گِرا تھا 

مگر، نزلہ فقط مجھ پر گرا تھا 

انا میں دب گئے سب خواب میرے 

بتوں کے سر پہ خود مندر گرا تھا 

میں اکثر جھانکتا تھا پانیوں میں

مِرے ہی عکس پر کنکر گرا تھا

Friday, 12 February 2021

رقم لہو سے ہیں کتنے سوال صحرا میں

 رقم لہو سے ہیں کتنے سوال صحرا میں

بُنے ہیں کتنے قبیلوں نے جال صحرا میں

کوئی تو ہے جو بُلاتا ہے گھر کی چوکھٹ پر

سُلگ اٹھا، دمِ آخر خیال صحرا میں

فضا میں اڑتے پرندے یہ کیا خبر لائے

بہانے لگ گئے آنسو غزال صحرا میں