Showing posts with label عرفانہ عزیز. Show all posts
Showing posts with label عرفانہ عزیز. Show all posts

Sunday, 25 April 2021

ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے

 ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے

گلرنگ تیری یاد کے سب پیرہن رہے

دیکھا تجھے تو رنگِ پسِ رنگ تھی نظر

یہ سلسلے بھی دل کے چمن در چمن رہے

پہروں تصورات کی محفل سجی رہی

پہروں تِرے خیال سے محوِ سخن رہے

Tuesday, 13 April 2021

ہر نفس وقف آرزو کر کے

 ہر نفس وقفِ آرزو کر کے

کچھ بھی پایا نہ جستجو کر کے

سو شگوفے کھِلا دئیے دل نے

خندۂ گل سے گفتگو کر کے

مسکراتا ہی کیوں نہ رہنے دوں

فائدہ چاکِ دل رفُو کر کے

Saturday, 10 April 2021

ہر کاسۂ دل کیف سے سرشار بہت ہے

 ہر کاسۂ دل کیف سے سرشار بہت ہے

مائل بہ کرم کوئی طرحدار بہت ہے

کب سطوتِ اسباب کی ہے دل کو تمنا

ہم اہلِ طریقت کو تو پندار بہت ہے

یہ عہدِ عبارت نہیں شمشیر و سناں سے

شوریدہ سرو! جرأتِ گفتار بہت ہے

Friday, 9 April 2021

نیل گگن پر سرخ پرندوں کی ڈاروں کے سنگ

 نیل گگن پر سرخ پرندوں کی ڈاروں کے سنگ

بدلی بن کر اڑتی جائے میری شوخ امنگ

کومل کلیوں جیسا میرا پاک پوِتر سریر

پون کے چھونے سے اڑ جاتا ہے چہرے کا رنگ

سپنوں کی ڈالی پر چمکا ایک سنہرا پات

چڑھتا سورج دیکھ کے جس کا روپ ہوا ہے دنگ

Wednesday, 3 March 2021

سانجھ سویرے پنچھی گائیں لے کر تیرا نام

 سانجھ سویرے پنچھی گائیں لے کر تیرا نام

ڈالی ڈالی پر ہے تیری یادوں کے بِسرام

بِچھڑا ساتھی ڈھونڈ رہی ہے کُونجوں کی اک ڈار

بھیگے بھیگے نین اٹھائے دیکھ رہی ہے شام

میٹھی نیند میں ڈوبے گاؤں بجھ گئے سارے دِیپ

بِرہا کے ماروں کا سُکھ کے سپنوں سے کیا کام