ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے
گلرنگ تیری یاد کے سب پیرہن رہے
دیکھا تجھے تو رنگِ پسِ رنگ تھی نظر
یہ سلسلے بھی دل کے چمن در چمن رہے
پہروں تصورات کی محفل سجی رہی
پہروں تِرے خیال سے محوِ سخن رہے
ہر چند زخم زخم دریدہ بدن رہے
گلرنگ تیری یاد کے سب پیرہن رہے
دیکھا تجھے تو رنگِ پسِ رنگ تھی نظر
یہ سلسلے بھی دل کے چمن در چمن رہے
پہروں تصورات کی محفل سجی رہی
پہروں تِرے خیال سے محوِ سخن رہے
ہر نفس وقفِ آرزو کر کے
کچھ بھی پایا نہ جستجو کر کے
سو شگوفے کھِلا دئیے دل نے
خندۂ گل سے گفتگو کر کے
مسکراتا ہی کیوں نہ رہنے دوں
فائدہ چاکِ دل رفُو کر کے
ہر کاسۂ دل کیف سے سرشار بہت ہے
مائل بہ کرم کوئی طرحدار بہت ہے
کب سطوتِ اسباب کی ہے دل کو تمنا
ہم اہلِ طریقت کو تو پندار بہت ہے
یہ عہدِ عبارت نہیں شمشیر و سناں سے
شوریدہ سرو! جرأتِ گفتار بہت ہے
نیل گگن پر سرخ پرندوں کی ڈاروں کے سنگ
بدلی بن کر اڑتی جائے میری شوخ امنگ
کومل کلیوں جیسا میرا پاک پوِتر سریر
پون کے چھونے سے اڑ جاتا ہے چہرے کا رنگ
سپنوں کی ڈالی پر چمکا ایک سنہرا پات
چڑھتا سورج دیکھ کے جس کا روپ ہوا ہے دنگ
سانجھ سویرے پنچھی گائیں لے کر تیرا نام
ڈالی ڈالی پر ہے تیری یادوں کے بِسرام
بِچھڑا ساتھی ڈھونڈ رہی ہے کُونجوں کی اک ڈار
بھیگے بھیگے نین اٹھائے دیکھ رہی ہے شام
میٹھی نیند میں ڈوبے گاؤں بجھ گئے سارے دِیپ
بِرہا کے ماروں کا سُکھ کے سپنوں سے کیا کام