ہر نفس وقفِ آرزو کر کے
کچھ بھی پایا نہ جستجو کر کے
سو شگوفے کھِلا دئیے دل نے
خندۂ گل سے گفتگو کر کے
مسکراتا ہی کیوں نہ رہنے دوں
فائدہ چاکِ دل رفُو کر کے
کتنے نو خیز و نو دمیدہ پھول
مر مٹے خواہشِ نمو کر کے
غیرتِ دل نے آہِ سوزاں کو
رکھ دیا سُرمۂ گلو کر کے
عرفانہ عزیز
No comments:
Post a Comment