پہلے پہل تو عشق کو رکھا اسیرِ دام
پھر یوں کہا گیا تھا کہ؛ آزاد ہے غلام
روشن کیے ہی جاؤ تم مشعل وصال کی
اک دن تو ختم ہو گا شبِ ہجر کا ظلام
اے کاش اس طرح کا کبھی حادثہ تو ہو
ہو ذکر آپ کا جہاں، آئے ہمارا نام
پہلے پہل تو عشق کو رکھا اسیرِ دام
پھر یوں کہا گیا تھا کہ؛ آزاد ہے غلام
روشن کیے ہی جاؤ تم مشعل وصال کی
اک دن تو ختم ہو گا شبِ ہجر کا ظلام
اے کاش اس طرح کا کبھی حادثہ تو ہو
ہو ذکر آپ کا جہاں، آئے ہمارا نام
اک محبت جس کے ہم مارے ہوئے تھے
پھر ستم یہ زندگی ہارے ہوئے تھے
آپ ہی ہم سے رہے ہیں دور، ورنہ
ہم میسر آپ کو سارے ہوئے تھے
ان شہیدوں کا مقام اپنی جگہ ہے
جو خدائے حرف کو پیارے ہوئے تھے
ذرا بتاؤ، تمام وعدوں کا کیا بنے گا؟
ہمارے سپنوں ہمارے خوابوں کا کیا بنے گا
وہ مسکراہٹ ہے اور ہم سے بچھڑ رہی ہے
ہمارے جیسے اداس لوگوں کا کیا بنے گا
بروزِ محشر سوال ہو گا محبتوں کا
میں سوچتا ہوں کہ تیرے جیسوں کا کیا بنے گا
کبھی نہ کبھی مجھ سے وہ آ ملے گا
مگر سیف کیا اس کو زندہ ملے گا
فلک دیکھ کر مسکراتا ہوا شخص
کسی روز کمرے سے مردہ ملے گا
یونہی سر پٹختا رہا گر پرندہ
کسی دن مجھے خالی پنجرہ ملے گا
کوئی بھی فیصلہ اٹل نہیں ہے
یعنی جو آج ہے وہ کل نہیں ہے
دے رہے ہو مجھے دلاسہ کیوں
اس کا نعم البدل، بدل نہیں ہے
میرے مسلک کا پوچھنے والو
ہاتھ پر میرے گنگا جل نہیں ہے
عجیب قیدی ہوں سب پرندوں سے مختلف ہوں
تمام مُردوں، تمام زندوں سے مختلف ہوں
عبث ہی ڈرتے ہیں مجھ سے تیرے جہان والے
میں ایک شاعر ہوں اور درندوں سے مختلف ہوں
میں اس زمیں سے جُڑا ہوا ہوں زماں کی حد تک
فلک گزیدہ، جہاں کُنندوں سے مختلف ہوں
آس کی دوڑ میں لا کر ہیں بکھرنے دیتیں
خواہشیں یار بھلا کب ہیں سنبھلنے دیتیں
ٹوٹ پڑتا ہے مِری آنکھ میں خوابوں کا وجود
اور تعبیریں نہیں آنکھ جھپکنے دیتیں
بددُعا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہ مر جاؤں میں
پر مجهے ماں کی دعائیں نہیں مرنے دیتیں
کچھ سال اپنے آپ میں کھونے کا غم کیا
باقی تمام عمر نہ ہونے کا غم کیا
چاروں طرف سے ہو گیا گھیرا جو تنگ پھر
لگ کر بدن سے روح نے سونے کا غم کیا
میں ہنس پڑا جو وقت سے پہلے ہی ایک لاش
دفنائی، اور ہم نے یوں کھونے کا غم کیا