Showing posts with label سیف ریاض. Show all posts
Showing posts with label سیف ریاض. Show all posts

Saturday, 21 August 2021

پہلے پہل تو عشق کو رکھا اسیر دام

 پہلے پہل تو عشق کو رکھا اسیرِ دام

پھر یوں کہا گیا تھا کہ؛ آزاد ہے غلام

روشن کیے ہی جاؤ تم مشعل وصال کی

اک دن تو ختم ہو گا شبِ ہجر کا ظلام

اے کاش اس طرح کا کبھی حادثہ تو ہو

ہو ذکر آپ کا جہاں، آئے ہمارا نام

Monday, 19 July 2021

اک محبت جس کے ہم مارے ہوئے تھے

 اک محبت جس کے ہم مارے ہوئے تھے

پھر ستم یہ زندگی ہارے ہوئے تھے

آپ ہی ہم سے رہے ہیں دور، ورنہ

ہم میسر آپ کو سارے ہوئے تھے

ان شہیدوں کا مقام اپنی جگہ ہے

جو خدائے حرف کو پیارے ہوئے تھے

Tuesday, 22 June 2021

ذرا بتاؤ تمام وعدوں کا کیا بنے گا

 ذرا بتاؤ، تمام وعدوں کا کیا بنے گا؟

ہمارے سپنوں ہمارے خوابوں کا کیا بنے گا

وہ مسکراہٹ ہے اور ہم سے بچھڑ رہی ہے

ہمارے جیسے اداس لوگوں کا کیا بنے گا

بروزِ محشر سوال ہو گا محبتوں کا

میں سوچتا ہوں کہ تیرے جیسوں کا کیا بنے گا

Thursday, 18 March 2021

کبھی نہ کبھی مجھ سے وہ آ ملے گا

 کبھی نہ کبھی مجھ سے وہ آ ملے گا

مگر سیف کیا اس کو زندہ ملے گا

فلک دیکھ کر مسکراتا ہوا شخص

کسی روز کمرے سے مردہ ملے گا

یونہی سر پٹختا رہا گر پرندہ

کسی دن مجھے خالی پنجرہ ملے گا

Monday, 15 March 2021

کوئی بھی فیصلہ اٹل نہیں ہے

 کوئی بھی فیصلہ اٹل نہیں ہے

یعنی جو آج ہے وہ کل نہیں ہے

دے رہے ہو مجھے دلاسہ کیوں

اس کا نعم البدل، بدل نہیں ہے

میرے مسلک کا پوچھنے والو

ہاتھ پر میرے گنگا جل نہیں ہے

Sunday, 14 March 2021

عجیب قیدی ہوں سب پرندوں سے مختلف ہوں

 عجیب قیدی ہوں سب پرندوں سے مختلف ہوں

تمام مُردوں، تمام زندوں سے مختلف ہوں

عبث ہی ڈرتے ہیں مجھ سے تیرے جہان والے

میں ایک شاعر ہوں اور درندوں سے مختلف ہوں

میں اس زمیں سے جُڑا ہوا ہوں زماں کی حد تک

فلک گزیدہ، جہاں کُنندوں سے مختلف ہوں

Saturday, 13 March 2021

آس کی دوڑ میں لا کر ہیں بکھرنے دیتیں

 آس کی دوڑ میں لا کر ہیں بکھرنے دیتیں

خواہشیں یار بھلا کب ہیں سنبھلنے دیتیں

ٹوٹ پڑتا ہے مِری آنکھ میں خوابوں کا وجود

اور تعبیریں نہیں آنکھ جھپکنے دیتیں

بددُعا ڈھونڈ کے لاتا ہوں کہ مر جاؤں میں

پر مجهے ماں کی دعائیں نہیں مرنے دیتیں

Wednesday, 23 December 2020

کچھ سال اپنے آپ میں کھونے کا غم کیا

 کچھ سال اپنے آپ میں کھونے کا غم کیا

باقی تمام عمر نہ ہونے کا غم کیا

چاروں طرف سے ہو گیا گھیرا جو تنگ پھر

لگ کر بدن سے روح نے سونے کا غم کیا

میں ہنس پڑا جو وقت سے پہلے ہی ایک لاش

دفنائی، اور ہم نے یوں کھونے کا غم کیا