نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا
ہمیں سے یہ تماشہ ہے نہ ہم ہوتے تو کیا ہوتا
نہ ایسی منزلیں ہوتیں نہ ایسا راستہ ہوتا
سنبھل کر ہم ذرا چلتے تو عالم زیر پا ہوتا
گھٹا چھاتی، بہار آتی، تمہارا تذکرہ ہوتا
پھر اس کے بعد گل کھلتے کہ زخم دل ہرا ہوتا
نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا
ہمیں سے یہ تماشہ ہے نہ ہم ہوتے تو کیا ہوتا
نہ ایسی منزلیں ہوتیں نہ ایسا راستہ ہوتا
سنبھل کر ہم ذرا چلتے تو عالم زیر پا ہوتا
گھٹا چھاتی، بہار آتی، تمہارا تذکرہ ہوتا
پھر اس کے بعد گل کھلتے کہ زخم دل ہرا ہوتا
آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو
نکلے آنکھوں سے اگر دل کے سہارے آنسو
حاصلِ خونِ جگر دل کے ہیں پارے آنسو
بے بہا لعل و گہر ہیں یہ ہمارے آنسو
ہے کوئی اب جو لگی دل کی بجھائے میری
ہجر میں روکے گنوا بیٹھا ہوں سارے آنسو
زنجیرِ جنوں کچھ اور کھنک ہم رقصِ تمنا دیکھیں گے
دنیا کا تماشہ دیکھ چکے، اب اپنا تماشہ دیکھیں گے
اک عمر ہوئی یہ سوچ کے ہم جاتے ہی نہیں گلشن کی طرف
تم اور بھی یاد آؤ گے ہمیں جب گُل کوئی کھِلتا دیکھیں گے
کیا فائدہ ایسے منظر سے کیوں خود ہی نہ کر لیں بند آنکھیں
اتنی ہی بڑھے گی تشنہ لبی ہم آپ کو جتنا دیکھیں گے
جہاں تک یادِ یار آتی رہے گی
فسانے غم کے دہراتی رہے گی
لہو دل کا نہ ہو گا ختم جب تک
محبت زندگی پاتی رہے گی
بھُلائے گا زمانہ مجھ کو جتنا
مِری ہر بات یاد آتی رہے گی
اک بے قرار دل سے ملاقات کیجئے
جب مل گئے ہیں آپ تو کچھ بات کیجئے
پہلے پہل ہوا ہے مری زندگی میں دن
زلفوں میں منہ چھپا کے نہ پھر رات کیجئے
نظروں سے گفتگو کی حدیں ختم ہو چکیں
جو دل میں ہے زباں سے وہی بات کیجئے
الجھے تو سب نشیب و فرازِ حیات میں
ہم تھے کہ ان کی زلفوں کے خم دیکھتے رہے
جب گھر جلا تھا میرا وہ منظر عجیب تھا
دیکھا نہیں جو تم نے وہ ہم دیکھتے رہے
وہ صاحب قلم نہ وہ اب صاحبان سیف
کیا ہو گئے ہیں سیف و قلم دیکھتے رہے