Showing posts with label نوشاد علی. Show all posts
Showing posts with label نوشاد علی. Show all posts

Tuesday, 23 August 2022

نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا

 نہ مندر میں صنم ہوتے نہ مسجد میں خدا ہوتا

ہمیں سے یہ تماشہ ہے نہ ہم ہوتے تو کیا ہوتا

نہ ایسی منزلیں ہوتیں نہ ایسا راستہ ہوتا

سنبھل کر ہم ذرا چلتے تو عالم زیر پا ہوتا

گھٹا چھاتی، بہار آتی، تمہارا تذکرہ ہوتا

پھر اس کے بعد گل کھلتے کہ زخم دل ہرا ہوتا

Monday, 21 February 2022

آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو

 آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو

نکلے آنکھوں سے اگر دل کے سہارے آنسو

حاصلِ خونِ جگر دل کے ہیں پارے آنسو

بے بہا لعل و گہر ہیں یہ ہمارے آنسو

ہے کوئی اب جو لگی دل کی بجھائے میری

ہجر میں روکے گنوا بیٹھا ہوں سارے آنسو

Wednesday, 10 March 2021

زنجیر جنوں کچھ اور کھنک ہم رقص تمنا دیکھیں گے

 زنجیرِ جنوں کچھ اور کھنک ہم رقصِ تمنا دیکھیں گے 

دنیا کا تماشہ دیکھ چکے، اب اپنا تماشہ دیکھیں گے 

اک عمر ہوئی یہ سوچ کے ہم جاتے ہی نہیں گلشن کی طرف 

تم اور بھی یاد آؤ گے ہمیں جب گُل کوئی کھِلتا دیکھیں گے 

کیا فائدہ ایسے منظر سے کیوں خود ہی نہ کر لیں بند آنکھیں 

اتنی ہی بڑھے گی تشنہ لبی ہم آپ کو جتنا دیکھیں گے

Monday, 22 February 2021

جہاں تک یاد یار آتی رہے گی

 جہاں تک یادِ یار آتی رہے گی 

فسانے غم کے دہراتی رہے گی 

لہو دل کا نہ ہو گا ختم جب تک 

محبت زندگی پاتی رہے گی 

بھُلائے گا زمانہ مجھ کو جتنا 

مِری ہر بات یاد آتی رہے گی 

Saturday, 19 December 2020

اک بے قرار دل سے ملاقات کیجئے

 اک بے قرار دل سے ملاقات کیجئے

جب مل گئے ہیں آپ تو کچھ بات کیجئے

پہلے پہل ہوا ہے مری زندگی میں دن

زلفوں میں منہ چھپا کے نہ پھر رات کیجئے

نظروں سے گفتگو کی حدیں ختم ہو چکیں

جو دل میں ہے زباں سے وہی بات کیجئے

Saturday, 28 November 2020

ہم تھے کہ ان کی زلفوں کے خم دیکھتے رہے

 الجھے تو سب نشیب و فرازِ حیات میں

ہم تھے کہ ان کی زلفوں کے خم دیکھتے رہے

جب گھر جلا تھا میرا وہ منظر عجیب تھا

دیکھا نہیں جو تم نے وہ ہم دیکھتے رہے

وہ صاحب قلم نہ وہ اب صاحبان سیف

کیا ہو گئے ہیں سیف و قلم دیکھتے رہے

Thursday, 22 October 2015

خود مٹ کے محبت کی تصویر بنائی ہے

خود مٹ کے محبت کی تصویر بنائی ہے 
اک شمع جلائی ہے اک شمع بجھائی ہے 
آغازِ شبِ غم سے کیوں سونے لگے تارے
شاید مِری آنکھوں سے کچھ نیند چرائی ہے 
میں خود بھی تپش جس کی سہتے ہوئے ڈرتا ہوں
اکثر مِرے نغموں نے وہ آگ لگائی ہے 

آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا

آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا
گزرو گے شہر سے تو میرا گھر بھی آئے گا
اچھی نہیں نزاکتِ احساس اس قدر بھی آئے گا
شیشہ اگر بنو گے تو پتھر بھی آئے گا
سیراب ہو کے شاد نہ ہوں رہروانِ شوق
رستے میں تشنگی کا سمندر بھی آئے گا