عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہ جانے کون سا جلوہ دکھا دیا آقاﷺ
کہ ربِ کعبہ کو عاشق بنا دیا آقاﷺ
فضائےعرشِ معلّیٰ پہ گفتگو رب سے
محال بات کو ممکن بنا دیا آقاﷺ
بھٹک رہی تھی یہ انسانیت زمانے میں
رہِ نجات پہ آخر لگا دیا آقاﷺ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نہ جانے کون سا جلوہ دکھا دیا آقاﷺ
کہ ربِ کعبہ کو عاشق بنا دیا آقاﷺ
فضائےعرشِ معلّیٰ پہ گفتگو رب سے
محال بات کو ممکن بنا دیا آقاﷺ
بھٹک رہی تھی یہ انسانیت زمانے میں
رہِ نجات پہ آخر لگا دیا آقاﷺ
روز کیا خواب کی تعبیر بدل جاتی ہے
ہاتھ اور پاؤں کی زنجیر بدل جاتی ہے
جاں پناہ آپ کی پُر جوش تقاریروں سے
کب مِرے شہر کی تقدیر بدل جاتی ہے
شعر کہنے کی مشقت کو اٹھا لینے سے
لکھی قسمت کی یہ تحریر بدل جاتی ہے
آئی سمجھ حیات بھی رُسوائیوں کے بعد
دل کو ملا سکوں بڑی پسپائیوں کے بعد
اپنا بنا کے رکھتا تھا جو اک جہان کو
کیا مل گیا اسے بھی شناسائیوں کے بعد
بنجر زمینِ دل پہ نہ اب سبزہ اُگائیے
بھاتی نہیں ہیں رونقیں تنہائیوں کے بعد
مِرا آنگن بھی مہکے گا ابھی برسات ہونے دو
شکستہ دل بھی چہکے گا ابھی برسات ہونے دو
گریباں چاک لوگوں کے بھی چہرے تمتمائیں گے
ابھی موسم بدلنے دو،۔ ابھی برسات ہونے دو
سمندر موج میں آ کر کنارے کاٹ ڈالے گا
ہوا کارخ بدلنے دو، ابھی برسات ہونے دو
وقت کی دل لگی عروج پہ تھی
رات بھر شاعری عروج پہ تھی
رات بھر فکر نے لہو تھوکا
اور مِری بےکلی عروج پہ تھی
زخم سارے ہی نوچ ڈالے تھے
وحشت دل مِری عروج پہ تھی
تختیاں سب اُتار دی گئی ہیں
مِرے گھر کا کہیں پتہ ہی نہیں
ریگِ بریاں پہ چل کے آئے ہیں
پاؤں میں کوئی آبلہ ہی نہیں
زخمِ دل کو تلاشِ مرہم تھی
اور مرہم کہیں ملا ہی نہیں
الجھی ہوئی حیات سے اکتا رہی ہوں میں
کیسا مقامِ فکر ہے گھبرا رہی ہوں میں
آخر کوئی گھسیٹے کہاں تک وجود کو
کیوں اپنے آپ پر یہ ستم ڈھا رہی ہوں میں
لہجوں کی مار، روز کے جھگڑے، وضاحتیں
جانے یہ کب سے گُتھیاں سُلجھا رہی ہوں میں
بے وجہ ہی ہم دل کی آبرو گنوا بیٹھے
بے خودی میں ہم اپنی چاہتیں جتا بیٹھے
عادتاً و رسماً ہی حال اس نے پوچھا تھا
سادگی میں ہم اپنا حالِ دل سنا بیٹھے
بارہا جو تھا دل میں ان سے کہہ نہیں پائے
اور پھر انہیں اپنا رازداں بنا بیٹھے
تشنگی تهی کہ بے قراری تهی
گفتگو بے خودی میں جاری تهی
عشق کی بھینٹ چڑھ گئی آخر
دوستی جان سے جو پیاری تھی
کتنے رشتوں میں بانٹ دی ہم نے
زندگی مل کے جو گزاری تهی
نظر جو دور سے آتا ہے ساحلوں کی طرح
وہ آسمان کی وسعت میں بادلوں کی طرح
یہ کس کے ساتھ روانہ کیا گیا مجھ کو
وہ شخص منزلوں جیسا نہ راستوں کی طرح
تمہارے قرب میں قربت کا ایک اک لمحہ
گزر رہا ہے میرے دل سے قافلوں کی طرح