Showing posts with label تابندہ سحر عابدی. Show all posts
Showing posts with label تابندہ سحر عابدی. Show all posts

Monday, 3 July 2023

نہ جانے کون سا جلوہ دکھا دیا آقا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نہ جانے کون سا جلوہ دکھا دیا آقاﷺ

کہ ربِ کعبہ کو عاشق بنا دیا آقاﷺ

فضائےعرشِ معلّیٰ پہ گفتگو رب سے

محال بات کو ممکن بنا دیا آقاﷺ

بھٹک رہی تھی یہ انسانیت زمانے میں

رہِ نجات پہ آخر لگا دیا آقاﷺ

Wednesday, 17 May 2023

روز کیا خواب کی تعبیر بدل جاتی ہے

 روز کیا خواب کی تعبیر بدل جاتی ہے

ہاتھ اور پاؤں کی زنجیر بدل جاتی ہے

جاں پناہ آپ کی پُر جوش تقاریروں سے

کب مِرے شہر کی تقدیر بدل جاتی ہے

شعر کہنے کی مشقت کو اٹھا لینے سے

لکھی قسمت کی یہ تحریر بدل جاتی ہے

Tuesday, 30 August 2022

آئی سمجھ حیات بھی رسوائیوں کے بعد

 آئی سمجھ حیات بھی رُسوائیوں کے بعد

دل کو ملا سکوں بڑی پسپائیوں کے بعد

اپنا بنا کے رکھتا تھا جو اک جہان کو

کیا مل گیا اسے بھی شناسائیوں کے بعد

بنجر زمینِ دل پہ نہ اب سبزہ اُگائیے

بھاتی نہیں ہیں رونقیں تنہائیوں کے بعد

Sunday, 3 April 2022

مرا آنگن بھی مہکے گا ابھی برسات ہونے دو

 مِرا آنگن بھی مہکے گا ابھی برسات ہونے دو

شکستہ دل بھی چہکے گا ابھی برسات ہونے دو

گریباں چاک لوگوں کے بھی چہرے تمتمائیں گے

ابھی موسم بدلنے دو،۔ ابھی برسات ہونے دو

سمندر موج میں آ کر کنارے کاٹ ڈالے گا

ہوا کارخ بدلنے دو، ابھی برسات ہونے دو

Friday, 11 March 2022

وقت کی دل لگی عروج پہ تھی

 وقت کی دل لگی عروج پہ تھی

رات بھر شاعری عروج پہ تھی

رات بھر فکر نے لہو تھوکا

اور مِری بےکلی عروج پہ تھی

زخم سارے ہی نوچ ڈالے تھے

وحشت دل مِری عروج پہ تھی

Monday, 26 July 2021

تختیاں سب اتار دی گئی ہیں

 تختیاں سب اُتار دی گئی ہیں

مِرے گھر کا کہیں پتہ ہی نہیں

ریگِ بریاں پہ چل کے آئے ہیں

پاؤں میں کوئی آبلہ ہی نہیں

زخمِ دل کو تلاشِ مرہم تھی

اور مرہم کہیں ملا ہی نہیں

Saturday, 24 July 2021

الجھی ہوئی حیات سے اکتا رہی ہوں میں

 الجھی ہوئی حیات سے اکتا رہی ہوں میں

کیسا مقامِ فکر ہے گھبرا رہی ہوں میں

آخر کوئی گھسیٹے کہاں تک وجود کو

کیوں اپنے آپ پر یہ ستم ڈھا رہی ہوں میں

لہجوں کی مار، روز کے جھگڑے، وضاحتیں

جانے یہ کب سے گُتھیاں سُلجھا رہی ہوں میں

Friday, 23 July 2021

بے وجہ ہی ہم دل کی آبرو گنوا بیٹھے

 بے وجہ ہی ہم دل کی آبرو گنوا بیٹھے

بے خودی میں ہم اپنی چاہتیں جتا بیٹھے

عادتاً و رسماً ہی حال اس نے پوچھا تھا

سادگی میں ہم اپنا حالِ دل سنا بیٹھے

بارہا جو تھا دل میں ان سے کہہ نہیں پائے 

اور پھر انہیں اپنا رازداں بنا بیٹھے

تشنگی تهی کہ بے قراری تهی

 تشنگی تهی کہ بے قراری تهی

گفتگو  بے خودی میں جاری تهی

عشق کی بھینٹ چڑھ گئی آخر

دوستی جان سے جو پیاری تھی

کتنے رشتوں میں بانٹ دی ہم نے

زندگی مل کے جو گزاری تهی

نظر جو دور سے آتا ہے ساحلوں کی طرح

نظر جو دور سے  آتا ہے ساحلوں کی طرح 

وہ آسمان کی وسعت میں بادلوں کی طرح

یہ کس کے ساتھ روانہ کیا گیا مجھ کو

وہ شخص منزلوں جیسا نہ راستوں کی طرح

تمہارے قرب میں قربت کا ایک اک لمحہ

گزر رہا ہے میرے دل سے قافلوں کی طرح