بے وجہ ہی ہم دل کی آبرو گنوا بیٹھے
بے خودی میں ہم اپنی چاہتیں جتا بیٹھے
عادتاً و رسماً ہی حال اس نے پوچھا تھا
سادگی میں ہم اپنا حالِ دل سنا بیٹھے
بارہا جو تھا دل میں ان سے کہہ نہیں پائے
اور پھر انہیں اپنا رازداں بنا بیٹھے
خود فریب لمحوں سے چوٹ کھائے بیٹھے ہیں
بے نشان منزل پر سائباں بنا بیٹھے
تابندہ سحر عابدی
No comments:
Post a Comment