Friday, 23 July 2021

بے وجہ ہی ہم دل کی آبرو گنوا بیٹھے

 بے وجہ ہی ہم دل کی آبرو گنوا بیٹھے

بے خودی میں ہم اپنی چاہتیں جتا بیٹھے

عادتاً و رسماً ہی حال اس نے پوچھا تھا

سادگی میں ہم اپنا حالِ دل سنا بیٹھے

بارہا جو تھا دل میں ان سے کہہ نہیں پائے 

اور پھر انہیں اپنا رازداں بنا بیٹھے

خود فریب لمحوں سے چوٹ کھائے بیٹھے ہیں 

بے نشان منزل پر سائباں بنا بیٹھے


تابندہ سحر عابدی

No comments:

Post a Comment