میں کیسے دیس میں پیدا ہوا ہوں
میں ایسے دیس میں پیدا ہوا ہوں
جہاں ہر دوسرا ہی فلسفی ہے
نشانے پر ہمیشہ زندگی ہے
جہاں پر نکتہ چینی مشغلہ ہے
جہاں پر فتویٰ گھڑنا حادثہ ہے
میں کیسے دیس میں پیدا ہوا ہوں
میں ایسے دیس میں پیدا ہوا ہوں
جہاں ہر دوسرا ہی فلسفی ہے
نشانے پر ہمیشہ زندگی ہے
جہاں پر نکتہ چینی مشغلہ ہے
جہاں پر فتویٰ گھڑنا حادثہ ہے
کچھ ہاتھ لگ ہی جائے گا آوارگی کے بعد
یعنی سکون پاؤں گا میں زندگی کے بعد
در پیش مسئلہ رہا مجھ کو تمام عمر
آنکھوں سے اشک بہنے لگے ہر خوشی کے بعد
دعویٰ تھا ایک کام کا جو ہو نہیں سکا
مجھ کو بتا میں کیا کروں اب عاشقی کے بعد
تمہارے عشق کی لو میں دھمال ڈالوں گا
تمہیں خبر ہے کہ کتنی کمال ڈالوں گا
یہ جن و انس و ملائک بھی سر کھجائیں گے
فلک کی گود میں ایسا سوال ڈالوں گا
ہمارے خون سے حق کی صدا ہی نکلے گی
قدیم یاد میں تازہ مثال ڈالوں گا
درد رسنے لگ گیا
جس کی دیوار سے
لفظ نشتر بن گئے
بے خبر نے دیکھیۓ
کیا حقارت دان کی
ہوں سراپا مطلبی
سنا ہے تبدیلی آ رہی ہے
امین و صادق کہاں کھڑے ہیں
سنا ہے تبدیلی آ رہی ہے
پرانے چہروں سے تنگ آ کر
میں گھر سے نکلا ہوں ووٹ دینے
مگر یہاں پر عجیب صورت بنی ہوئی ہے
نایاب اس قدر مجھے تحفہ نہ دیجیۓ
صحرا کو منہ دکھائی میں دریا نہ دیجیۓ
تعبیر میرے خواب کی ہو جائے گی اُلٹ
سو دشمنی نبھائیے،۔ بوسہ نہ دیجیۓ
چوسا ہے خون آپ نے ہر دم غریب کا
رُکیۓ، حرام مال سے صدقہ نہ دیجیۓ
کرنا ہے اب سفر مجھے تازہ ہوا کے ساتھ
گفت و شنید جاری ہے میری خدا کے ساتھ
ممکن ہے آسمان کے سینے کو چیر دیں
کچھ سسکیاں روانہ ہوئی ہیں دعا کے ساتھ
اب اس سے بڑھ کے عاجزی کی کیا مثال دوں
دفنا دیا ہے زعم کو اندھی انا کے ساتھ
دلِ ناداں یقیں کر لے محبت اب نہیں ہو گی
قیامت آ چکی ہم پر، قیامت اب نہیں ہو گی
جسے اپنا بنایا تھا جو رگ رگ میں سمایا تھا
بہت بے درد نکلا وہ، سو چاہت اب نہیں ہو گی
مِرا بے سُود ہے جینا جہانِ درد میں تنہا
مجھے سانسوں کی اے ہمدم ضرورت اب نہیں ہو گی
مشورہ
بوئے انفاس پر یاد حاوی ہوئی
وصل کی جھلکیاں جھلملانے لگیں
آنکھ سونے سے قاصر ہوئی ان دنوں
مجھ کو سونے کی تلقین مت کیجیے
نظم کی شکل میں درد بہنے لگا
جسم کا روح سے رابطہ ختم شد
آگے دیوار ہے، راستہ ختم شد
ہجر یادوں کی کب تک اسیری بنے
کیجیے درد کا سلسلہ ختم شد
کون کیسے مَرا ہم کو مطلب ہے کیا
آؤ گھر کو چلیں، حادثہ ختم شد
بشر کو آزماتا ہے
خدا تحریریں لکھتا ہے
جسے ہم تم مقدر کا لکھا گردانتے ہیں
خدا تحریریں پڑھتا ہے
جو ماتھے پر ہوں آویزاں
دلوں میں جو پنپتی ہوں
میں ترے ساتھ ہوں
کیوں پریشان ہو
کتنی نادان ہو
لغو باتوں کو دل میں بساتی ہو کیوں
دل جلاتی ہو کیوں
خود بھی روتی ہو مجھ کو رُلاتی ہو کیوں