Showing posts with label ماجد جہانگیر. Show all posts
Showing posts with label ماجد جہانگیر. Show all posts

Friday, 25 November 2022

میں کیسے دیس میں پیدا ہوا ہوں

 میں کیسے دیس میں پیدا ہوا ہوں

میں ایسے دیس میں پیدا ہوا ہوں

جہاں ہر دوسرا ہی فلسفی ہے

نشانے پر ہمیشہ زندگی ہے

جہاں پر نکتہ چینی مشغلہ ہے

جہاں پر فتویٰ گھڑنا حادثہ ہے

Sunday, 12 December 2021

کچھ ہاتھ لگ ہی جائے گا آوارگی کے بعد

 کچھ ہاتھ لگ ہی جائے گا آوارگی کے بعد

یعنی سکون پاؤں گا میں زندگی کے بعد

در پیش مسئلہ رہا مجھ کو تمام عمر

آنکھوں سے اشک بہنے لگے ہر خوشی کے بعد

دعویٰ تھا ایک کام کا جو ہو نہیں سکا

مجھ کو بتا میں کیا کروں اب عاشقی کے بعد

Saturday, 20 November 2021

تمہارے عشق کی لو میں دھمال ڈالوں گا

 تمہارے عشق کی لو میں دھمال ڈالوں گا

تمہیں خبر ہے کہ کتنی کمال ڈالوں گا

یہ جن و انس و ملائک بھی سر کھجائیں گے

فلک کی گود میں ایسا سوال ڈالوں گا

ہمارے خون سے حق کی صدا ہی نکلے گی

قدیم یاد میں تازہ مثال ڈالوں گا

Friday, 8 October 2021

اٹھو اور اپنے حقوق چھینو

 درد رسنے لگ گیا

جس کی دیوار سے

لفظ نشتر بن گئے

بے خبر نے دیکھیۓ

کیا حقارت دان کی

ہوں سراپا مطلبی

Wednesday, 6 October 2021

امین و صادق کہاں کھڑے ہیں سنا ہے تبدیلی آ رہی ہے

 سنا ہے تبدیلی آ رہی ہے


امین و صادق کہاں کھڑے ہیں

سنا ہے تبدیلی آ رہی ہے

پرانے چہروں سے تنگ آ کر

میں گھر سے نکلا ہوں ووٹ دینے

مگر یہاں پر عجیب صورت بنی ہوئی ہے

Friday, 24 September 2021

نایاب اس قدر مجھے تحفہ نہ دیجیے

 نایاب اس قدر مجھے تحفہ نہ دیجیۓ

صحرا کو منہ دکھائی میں دریا نہ دیجیۓ

تعبیر میرے خواب کی ہو جائے گی اُلٹ

سو دشمنی نبھائیے،۔ بوسہ نہ دیجیۓ

چوسا ہے خون آپ نے ہر دم غریب کا

رُکیۓ، حرام مال سے صدقہ نہ دیجیۓ

Thursday, 16 September 2021

کرنا ہے اب سفر مجھے تازہ ہوا کے ساتھ

 کرنا ہے اب سفر مجھے تازہ ہوا کے ساتھ

گفت و شنید جاری ہے میری خدا کے ساتھ

ممکن ہے آسمان کے سینے کو چیر دیں

کچھ سسکیاں روانہ ہوئی ہیں دعا کے ساتھ

اب اس سے بڑھ کے عاجزی کی کیا مثال دوں

دفنا دیا ہے زعم کو اندھی انا کے ساتھ

Monday, 26 April 2021

دل ناداں یقیں کر لے محبت اب نہیں ہو گی

 ‏دلِ ناداں یقیں کر لے محبت اب نہیں ہو گی

قیامت آ چکی ہم پر، قیامت اب نہیں ہو گی

جسے اپنا بنایا تھا جو رگ رگ میں سمایا تھا

بہت بے درد نکلا وہ، سو چاہت اب نہیں ہو گی

مِرا بے سُود ہے جینا جہانِ درد میں تنہا

مجھے سانسوں کی اے ہمدم ضرورت اب نہیں ہو گی

Tuesday, 13 April 2021

ہو سکے یاد کو اپنی طاقت بنا

 مشورہ


بوئے انفاس پر یاد حاوی ہوئی

وصل کی جھلکیاں جھلملانے لگیں

آنکھ سونے سے قاصر ہوئی ان دنوں

مجھ کو سونے کی تلقین مت کیجیے

نظم کی شکل میں درد بہنے لگا

Saturday, 10 April 2021

جسم کا روح سے رابطہ ختم شد

 جسم کا روح سے رابطہ ختم شد

آگے دیوار ہے، راستہ ختم شد

ہجر یادوں کی کب تک اسیری بنے

کیجیے درد کا سلسلہ ختم شد

کون کیسے مَرا ہم کو مطلب ہے کیا

آؤ گھر کو چلیں، حادثہ ختم شد

بشر کو آزماتا ہے خدا تحریریں لکھتا ہے

 بشر کو آزماتا ہے


خدا تحریریں لکھتا ہے

جسے ہم تم مقدر کا لکھا گردانتے ہیں

خدا تحریریں پڑھتا ہے

جو ماتھے پر ہوں آویزاں

دلوں میں جو پنپتی ہوں

کیوں پریشان ہو کتنی نادان ہو

 میں ترے ساتھ ہوں


کیوں پریشان ہو

کتنی نادان ہو

لغو باتوں کو دل میں بساتی ہو کیوں

دل جلاتی ہو کیوں

خود بھی روتی ہو مجھ کو رُلاتی ہو کیوں