Thursday, 16 September 2021

کرنا ہے اب سفر مجھے تازہ ہوا کے ساتھ

 کرنا ہے اب سفر مجھے تازہ ہوا کے ساتھ

گفت و شنید جاری ہے میری خدا کے ساتھ

ممکن ہے آسمان کے سینے کو چیر دیں

کچھ سسکیاں روانہ ہوئی ہیں دعا کے ساتھ

اب اس سے بڑھ کے عاجزی کی کیا مثال دوں

دفنا دیا ہے زعم کو اندھی انا کے ساتھ

اک بوجھ ہے دھرا ہوا دل کی حدود پر

ہو گا مِرے وجود سے رخصت قضا کے ساتھ

میں اپنے زاویے سے پرکھتا ہوں دہر کو

اور انتہا کو سوچتا ہوں ابتدا کے ساتھ

اکثر میں سانس لینے سے کرتا ہوں اجتناب

یعنی کے جی رہا ہوں میں تیری رضا کے ساتھ

ماجد بھی تیری خلق میں شامل ہے اے خدا

ایسے نہ بے رُخی برت اپنے گدا کے ساتھ


ماجد جہانگیر مرزا

No comments:

Post a Comment