Showing posts with label نواب احسن. Show all posts
Showing posts with label نواب احسن. Show all posts

Friday, 11 March 2022

وہ لمحے بھولے نہیں رسم و راہ کے اب تک

 وہ لمحے بھولے نہیں رسم و راہ کے اب تک

تصورات ہیں دل میں گناہ کے اب تک

بہا کے لے گیا سیلاب گاؤں کے منظر

گھروندے مٹ نہیں پائے ہیں چاہ کے اب تک

تِری زباں سے جو نکلے تھے بد دعا بن کر

مجھے جلاتے ہیں شعلے وہ آہ کے اب تک

Monday, 6 December 2021

جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے

 جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے

اسے کیا جانے کیا ہے کیا نہیں ہے

تِری آنکھوں سے دل کی وادیوں تک

کوئی بھی راہرو پہنچا نہیں ہے

جو پیاسی روح کو سیراب کر دے

وہ بادل آج تک برسا نہیں ہے

Sunday, 5 December 2021

اب سفر رات میں ہی کرتے ہیں

 اب سفر رات میں ہی کرتے ہیں

لوگ اب روشنی سے ڈرتے ہیں

رہ کے اک شہر بے چراغ میں ہم

روز جیتے ہیں، روز مرتے ہیں

یاد آتے ہیں سارے پس منظر

نقش ماضی کے جب ابھرتے ہیں

Thursday, 15 July 2021

خموش اس لیے ہم ہیں کہ بات گھر کی ہے

 خموش اس لیے ہم ہیں کہ بات گھر کی ہے

ابھی یہ دیکھ رہے ہیں ہوا کدھر کی ہے

بجھے چراغ تو احساس کرب جاگ اٹھا

نہ جانے کیسے پرندوں نے شب بسر کی ہے

ہمارے بچوں کے دل میں سلگ رہے ہیں الاؤ

یہ آگ بجھ نہیں پائے گی عمر بھر کی ہے

Sunday, 9 May 2021

دولت شہرت قتل تباہی کیا کیا ہیں پہچان نہ پوچھ

 دولت، شہرت، قتل، تباہی کیا کیا ہیں پہچان نہ پوچھ

آج وفا کے افسانوں کے کتنے ہیں عنوان نہ پوچھ

جھوٹ، دغا، نفرت اور رشوت ذہنوں کے نیلام ہوئے ہیں

اور ترازو میں سونے کے تُلتے ہیں ایمان نہ پوچھ

جلتی چتائیں، خونی منظر، چیخیں، کرب اور سناٹے

کس کو ہم الزام لگائیں بستی ہے ویران نہ پوچھ