وہ لمحے بھولے نہیں رسم و راہ کے اب تک
تصورات ہیں دل میں گناہ کے اب تک
بہا کے لے گیا سیلاب گاؤں کے منظر
گھروندے مٹ نہیں پائے ہیں چاہ کے اب تک
تِری زباں سے جو نکلے تھے بد دعا بن کر
مجھے جلاتے ہیں شعلے وہ آہ کے اب تک
وہ لمحے بھولے نہیں رسم و راہ کے اب تک
تصورات ہیں دل میں گناہ کے اب تک
بہا کے لے گیا سیلاب گاؤں کے منظر
گھروندے مٹ نہیں پائے ہیں چاہ کے اب تک
تِری زباں سے جو نکلے تھے بد دعا بن کر
مجھے جلاتے ہیں شعلے وہ آہ کے اب تک
جسے ہم نے کبھی دیکھا نہیں ہے
اسے کیا جانے کیا ہے کیا نہیں ہے
تِری آنکھوں سے دل کی وادیوں تک
کوئی بھی راہرو پہنچا نہیں ہے
جو پیاسی روح کو سیراب کر دے
وہ بادل آج تک برسا نہیں ہے
اب سفر رات میں ہی کرتے ہیں
لوگ اب روشنی سے ڈرتے ہیں
رہ کے اک شہر بے چراغ میں ہم
روز جیتے ہیں، روز مرتے ہیں
یاد آتے ہیں سارے پس منظر
نقش ماضی کے جب ابھرتے ہیں
خموش اس لیے ہم ہیں کہ بات گھر کی ہے
ابھی یہ دیکھ رہے ہیں ہوا کدھر کی ہے
بجھے چراغ تو احساس کرب جاگ اٹھا
نہ جانے کیسے پرندوں نے شب بسر کی ہے
ہمارے بچوں کے دل میں سلگ رہے ہیں الاؤ
یہ آگ بجھ نہیں پائے گی عمر بھر کی ہے
دولت، شہرت، قتل، تباہی کیا کیا ہیں پہچان نہ پوچھ
آج وفا کے افسانوں کے کتنے ہیں عنوان نہ پوچھ
جھوٹ، دغا، نفرت اور رشوت ذہنوں کے نیلام ہوئے ہیں
اور ترازو میں سونے کے تُلتے ہیں ایمان نہ پوچھ
جلتی چتائیں، خونی منظر، چیخیں، کرب اور سناٹے
کس کو ہم الزام لگائیں بستی ہے ویران نہ پوچھ