بے خیالی ہی میں جو میں نے پکارا سُورج
پھر ہوا یوں، کہ سَوا نیزے پہ آیا سورج
رات کے پچھلے پہر کوئی دعا مانگی تھی
یخ زدہ گھر کے کسی کونے سے اُبھرا سورج
ناؤ کاغذ کی جو پانی میں اُتاری میں نے
پھر دھنک نے بھی لی انگڑائی نہایا سورج
بے خیالی ہی میں جو میں نے پکارا سُورج
پھر ہوا یوں، کہ سَوا نیزے پہ آیا سورج
رات کے پچھلے پہر کوئی دعا مانگی تھی
یخ زدہ گھر کے کسی کونے سے اُبھرا سورج
ناؤ کاغذ کی جو پانی میں اُتاری میں نے
پھر دھنک نے بھی لی انگڑائی نہایا سورج
ایک معمہ ہے وہ ویسے کتنا بھولا بھالا ہے
ایک اک رنگ انوکھا اس کا ہر انداز نرالا ہے
شکوہ ہے میں چپ ہوں لیکن اتنا ہے معلوم مجھے
میرے پھول سے لفظوں سے وہ کانٹے چننے والا ہے
استفہام کے جنگل میں کب کون کہاں کیوں کیسا کیا
سوچ میں خود کو گم پایا ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے
آنکھوں میں مِری ابر رواں اور طرح کے
دل میں بھی کئی دشت تپاں اور طرح کے
ہیں یاس تِرے تیر و کماں اور طرح کے
لفظوں کے سپر میرے یہاں اور طرح کے
احباب سناتے ہیں کوئی اور کہانی
ہیں میرے حریفوں کے بیاں اور طرح کے
یہ ہماری زمیں، وہ تمہاری زمیں
سرحدیں کھا گئی ہیں یہ ساری زمیں
تیری خاطر ہی کٹوائے سر بے شمار
قیمت ایسی چُکا دی ہے بھاری زمیں
آنکھ اُٹھی بھی نہ تھی تیری جانب ابھی
ضرب سینوں پہ لگوا دی کاری زمیں
میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں
صدا تو دے کہ جانوں میں کہاں ہوں
یہی ہے فرق مجھ میں اور اس میں
یقیں ہے وہ تو میں بس اک گماں ہوں
زمیں سے آسماں تک شور کیسا
تو کیا سب کے لیے بار گراں ہوں