Showing posts with label رخسانہ جبین. Show all posts
Showing posts with label رخسانہ جبین. Show all posts

Thursday, 15 September 2022

بے خیالی ہی میں جو میں نے پکارا سورج

 بے خیالی ہی میں جو میں نے پکارا سُورج

پھر ہوا یوں، کہ سَوا نیزے پہ آیا سورج

رات کے پچھلے پہر کوئی دعا مانگی تھی

یخ زدہ گھر کے کسی کونے سے اُبھرا سورج

ناؤ کاغذ کی جو پانی میں اُتاری میں نے

پھر دھنک نے بھی لی انگڑائی نہایا سورج

Friday, 9 September 2022

ایک معمہ ہے وہ ویسے کتنا بھولا بھالا ہے

ایک معمہ ہے وہ ویسے کتنا بھولا بھالا ہے

ایک اک رنگ انوکھا اس کا ہر انداز نرالا ہے

شکوہ ہے میں چپ ہوں لیکن اتنا ہے معلوم مجھے

میرے پھول سے لفظوں سے وہ کانٹے چننے والا ہے

استفہام کے جنگل میں کب کون کہاں کیوں کیسا کیا

سوچ میں خود کو گم پایا ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے

Saturday, 27 August 2022

آنکھوں میں مری ابر رواں اور طرح کے

 آنکھوں میں مِری ابر رواں اور طرح کے

دل میں بھی کئی دشت تپاں اور طرح کے

ہیں یاس تِرے تیر و کماں اور طرح کے

لفظوں کے سپر میرے یہاں اور طرح کے

احباب سناتے ہیں کوئی اور کہانی

ہیں میرے حریفوں کے بیاں اور طرح کے

Friday, 26 August 2022

یہ ہماری زمیں وہ تمہاری زمیں

 یہ ہماری زمیں، وہ تمہاری زمیں

سرحدیں کھا گئی ہیں یہ ساری زمیں

تیری خاطر ہی کٹوائے سر بے شمار

قیمت ایسی چُکا دی ہے بھاری زمیں

آنکھ اُٹھی بھی نہ تھی تیری جانب ابھی

ضرب سینوں پہ لگوا دی کاری زمیں

Wednesday, 9 March 2022

میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں

 میں ہوں تو کوئی بتلائے کہ ہاں ہوں

صدا تو دے کہ جانوں میں کہاں ہوں

یہی ہے فرق مجھ میں اور اس میں

یقیں ہے وہ تو میں بس اک گماں ہوں

زمیں سے آسماں تک شور کیسا

تو کیا سب کے لیے بار گراں ہوں