Friday, 9 September 2022

ایک معمہ ہے وہ ویسے کتنا بھولا بھالا ہے

ایک معمہ ہے وہ ویسے کتنا بھولا بھالا ہے

ایک اک رنگ انوکھا اس کا ہر انداز نرالا ہے

شکوہ ہے میں چپ ہوں لیکن اتنا ہے معلوم مجھے

میرے پھول سے لفظوں سے وہ کانٹے چننے والا ہے

استفہام کے جنگل میں کب کون کہاں کیوں کیسا کیا

سوچ میں خود کو گم پایا ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے

دنیا میں دیکھا ہے ہر سو جھوٹ کپٹ چھل مکر و فریب

اور یہ سننے میں آیا ہے جھوٹے کا منہ کالا ہے

کوئی سمجھا دے ساحل پر ماتم کرنے والوں کو

اپنی مرضی سے کشتی کو اس گرداب میں ڈالا ہے

اپنے اپنے طور پہ اہل فکر نے اس کو سوچا ہے

میں بس اتنا کہتی ہوں یہ موت کا ایک نوالا ہے


رخسانہ جبین

No comments:

Post a Comment