Friday, 9 September 2022

اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں

 اپنی صورت کا ہی دیدار دوبارہ کر لیں 

ڈوبتے چاند کا ہم پھر سے نظارہ کر لیں 

زندگی اتنی غنیمت تو نہیں جس کے لیے 

عہد کم ظرف کی ہر بات گوارہ کر لیں 

شیخ جس عہد کی دیتا ہے مثالیں ہم کو 

کیسے اس عہد کو ہم زندہ دوبارہ کر لیں 

عمر بھر اہل طرب لوٹ کے ساحل کے مزے 

کیا جوانمردی ہے طوفاں سے کنارہ کر لیں 

آسمانوں پہ تو انسان نہیں رہ سکتے 

جیسے ممکن ہو زمیں پر ہی گزارا کر لیں 

اب تو بیمار محبت کی ہے حالت نازک 

چارہ سازوں سے کہو وہ کوئی چارہ کر لیں 

جس کے ایماں میں ہی انساں سے ہو نفرت شامل 

کس طرح ایسے ستم گر سے گزارا کر لیں 

اب تو اس شہر میں ایسا کوئی انسان نہیں 

جس سے مل کر ہی کبھی ذکر تمہارا کر لیں 

ڈوب جاتے ہیں گھڑی پل میں ستارے اسلم

کس توقع پہ اسے آنکھ کا تارہ کر لیں 


اسلم گورداسپوری

No comments:

Post a Comment