آپ تو عشق میں دانائی لیے بیٹھے ہیں
اور دِوانے ہیں کہ رُسوائی لیے بیٹھے ہیں ہم
خانۂ ہجر میں یادیں تِری رقصاں ہوں گی
ہم اسی شوق میں تنہائی لیے بیٹھے ہیں
تجربہ ہم پہ تغافل کا نہ کیجے، ورنہ
کچھ ہُنر ہم بھی کرشمائی لیے بیٹھے ہیں
آپ تو عشق میں دانائی لیے بیٹھے ہیں
اور دِوانے ہیں کہ رُسوائی لیے بیٹھے ہیں ہم
خانۂ ہجر میں یادیں تِری رقصاں ہوں گی
ہم اسی شوق میں تنہائی لیے بیٹھے ہیں
تجربہ ہم پہ تغافل کا نہ کیجے، ورنہ
کچھ ہُنر ہم بھی کرشمائی لیے بیٹھے ہیں
عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں
اس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں
زندگی ہے مِری ٹھہرا ہوا پانی جیسے
ایک کنکر سے بھی ہو جاتی ہے ہلچل مجھ میں
میں بظاہر تو ہوں اک ذرہ زمیں پر، لیکن
اپنے ہونے کا ہے احساس مکمل مجھ میں
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آج کیا بولوں
وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں مزاج کیا بولوں
اگر بتا دوں کہ خواہش ہے ساتھ چلنے کی
تو وہ کہیں گے کرو گھر میں راج، کیا بولوں
اگر بتا دوں کہ پہچان چاہتی ہوں میں
کریں گے پیش وہ دیوی کا تاج، کیا بولوں
غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی
میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی
یہ سوچ کر کہ تغافل تو اس کی فطرت ہے
میں اپنے دل کو بڑی دیر تک مناتی رہی
اسے تو لوٹ کے آنا ہی تھا، وہ لوٹ آیا
مگر وہ آیا تو ہاتھوں سے عمر جاتی رہی
اپنی بے چہرگی بھی دیکھا کر
روز اک آئینہ نہ توڑا کر
تُو جدھر جائے دن نکل آئے
روشنی کا مزاج پیدا کر
یہ صدی بھی کہیں نہ کھو جائے
اپنی مرضی کا کوئی لمحہ کر
عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے
یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے
یہ جو دعوے ہیں محبت کے ابھی ہیں جناں
اور دو چار برس بعد نہیں ہونے کے
کیا کہا توڑ کے لاؤ گے فلک سے تارے
دیکھو ان باتوں سے ہم شاد نہیں ہونے کے
مجھ کو تو مشق سماعت ہے چلو تم بولو
تم کو سننا مری عادت ہے چلو تم بولو
میں نے خاموشی کو آسان کیا ہے خود پر
میری برسوں کی ریاضت ہے چلو تم بولو
تم سے آباد ہے باتوں کی طلسمی دنیا
یہ تمہاری بھی ضرورت ہے چلو تم بولو
اک تعلق نہیں سنبھلا تو بھنور تک پہنچا
دیکھتے دیکھتے پانی مرے سر تک پہنچا
تجھ سے بچھڑے تو نہ راس آئی کوئی بھی منزل
پھر جنوں میرا تری راہ گزر تک پہنچا
اس قدر دھوپ میں شدت تھی کہ گھبرا کر دل
سائے کی آس میں بے سایہ شجر تک پہنچا
خیریت غیر کی مانند ہماری مت پوچھ
یہ تکلف تو ہوا جاتا ہے بھاری، مت پوچھ
سلسلے درد کے کیسے ہوئے جاری مت پوچھ
اور کرنے دے ہمیں زخم شماری، مت پوچھ
تیرے ہونے میں نہ ہونےکا گماں ہے، سو ابھی
دل کو کرنے دے ذرا رائے شماری، مت پوچھ
عقل کو بھول جا کچھ دیر تو نادانی کر
مصلحت چھوڑ ذرا عشق میں آسانی کر
تُو مرا ہے تو ذرا دھیان رکھا کر میرا
لے مرے خواب اٹھا ان کی نگہبانی کر
میں نے دانستہ سر بزم تجھے دیکھا ہے
مسکرانے کی ضرورت نہیں، حیرانی کر