Showing posts with label نصرت مہدی. Show all posts
Showing posts with label نصرت مہدی. Show all posts

Friday, 22 March 2024

آپ تو عشق میں دانائی لیے بیٹھے ہیں

آپ تو عشق میں دانائی لیے بیٹھے ہیں

اور دِوانے ہیں کہ رُسوائی لیے بیٹھے ہیں ہم

خانۂ ہجر میں یادیں تِری رقصاں ہوں گی

ہم اسی شوق میں تنہائی لیے بیٹھے ہیں

تجربہ ہم پہ تغافل کا نہ کیجے، ورنہ

کچھ ہُنر ہم بھی کرشمائی لیے بیٹھے ہیں

Friday, 11 August 2023

عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں

 عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں

اس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں

زندگی ہے مِری ٹھہرا ہوا پانی جیسے

ایک کنکر سے بھی ہو جاتی ہے ہلچل مجھ میں

میں بظاہر تو ہوں اک ذرہ زمیں پر، لیکن

اپنے ہونے کا ہے احساس مکمل مجھ میں

Monday, 29 August 2022

سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آج کیا بولوں

 سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ آج کیا بولوں

وہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں مزاج کیا بولوں

اگر بتا دوں کہ خواہش ہے ساتھ چلنے کی

تو وہ کہیں گے کرو گھر میں راج، کیا بولوں

اگر بتا دوں کہ پہچان چاہتی ہوں میں

کریں گے پیش وہ دیوی کا تاج، کیا بولوں

Tuesday, 10 August 2021

غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

غلط بیانی پہ اس کی یقیں دکھاتی رہی

میں سب سمجھتی رہی اور مسکراتی رہی

یہ سوچ کر کہ تغافل تو اس کی فطرت ہے

میں اپنے دل کو بڑی دیر تک مناتی رہی

اسے تو لوٹ کے آنا ہی تھا، وہ لوٹ آیا

مگر وہ آیا تو ہاتھوں سے عمر جاتی رہی

Friday, 28 May 2021

اپنی بے چہرگی بھی دیکھا کر

 اپنی بے چہرگی بھی دیکھا کر

روز اک آئینہ نہ توڑا کر

تُو جدھر جائے دن نکل آئے

روشنی کا مزاج پیدا کر

یہ صدی بھی کہیں نہ کھو جائے

اپنی مرضی کا کوئی لمحہ کر

Monday, 14 December 2020

عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

 عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے

یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے

یہ جو دعوے ہیں محبت کے ابھی ہیں جناں

اور دو چار برس بعد نہیں ہونے کے

کیا کہا توڑ کے لاؤ گے فلک سے تارے

دیکھو ان باتوں سے ہم شاد نہیں ہونے کے

Sunday, 13 December 2020

مجھ کو تو مشق سماعت ہے چلو تم بولو

مجھ کو تو مشق سماعت ہے چلو تم بولو

تم کو سننا مری عادت ہے چلو تم بولو

میں نے خاموشی کو آسان کیا ہے خود پر

میری برسوں کی ریاضت ہے چلو تم بولو

تم سے آباد ہے باتوں کی طلسمی دنیا

یہ تمہاری بھی ضرورت ہے چلو تم بولو

Saturday, 12 December 2020

اک تعلق نہیں سنبھلا تو بھنور تک پہنچا

 اک تعلق نہیں سنبھلا تو بھنور تک پہنچا

دیکھتے دیکھتے پانی مرے سر تک پہنچا

تجھ سے بچھڑے تو نہ راس آئی کوئی بھی منزل

پھر جنوں میرا تری راہ گزر تک پہنچا

اس قدر دھوپ میں شدت تھی کہ گھبرا کر دل

سائے کی آس میں بے سایہ شجر تک پہنچا

اور کرنے دے ہمیں زخم شماری مت پوچھ

 خیریت غیر کی مانند ہماری مت پوچھ

یہ تکلف تو ہوا جاتا ہے بھاری، مت پوچھ

سلسلے درد کے کیسے ہوئے جاری مت پوچھ

اور کرنے دے ہمیں زخم شماری، مت پوچھ

تیرے ہونے میں نہ ہونےکا گماں ہے، سو ابھی

دل کو کرنے دے ذرا رائے شماری، مت پوچھ

Thursday, 19 November 2020

عقل کو بھول جا کچھ دیر تو نادانی کر

 عقل کو بھول جا کچھ دیر تو نادانی کر

مصلحت چھوڑ ذرا عشق میں آسانی کر

تُو مرا ہے تو ذرا دھیان رکھا کر میرا

لے مرے خواب اٹھا ان کی نگہبانی کر

میں نے دانستہ سر بزم تجھے دیکھا ہے

مسکرانے کی ضرورت نہیں، حیرانی کر