میں تو جو بھی لکھتا ہوں، دل کے ساتھ لکھتا ہُوں
شعر تو نہیں لکھتا،۔ واردات لکھتا ہوں
بیٹھا بیٹھا دفتر میں، اونگھتا ہوں سارا دن
ساری رات جگتا ہوں، ساری رات لکھتا ہوں
وہ تو میری غزلیں بھی، اس طرح سے پڑھتی ہے
جیسے میں انوکھی ہی، کوئی بات لکھتا ہوں
میں تو جو بھی لکھتا ہوں، دل کے ساتھ لکھتا ہُوں
شعر تو نہیں لکھتا،۔ واردات لکھتا ہوں
بیٹھا بیٹھا دفتر میں، اونگھتا ہوں سارا دن
ساری رات جگتا ہوں، ساری رات لکھتا ہوں
وہ تو میری غزلیں بھی، اس طرح سے پڑھتی ہے
جیسے میں انوکھی ہی، کوئی بات لکھتا ہوں
چونکہ تیرے بِنا گزارہ نہیں
اس لیے بھی تجھے پکارا نہیں
زِندگی ایک بار ہے، یعنی
لطف یہ پھر کبھی دوبارہ نہیں
تیری صورت کو بھی ترستے تھے
اب تیرا ذکر بھی گوارا نہیں
تمہاری بے حِسی ہے اور تم ہو
میری دیوانگی ہے اور میں ہوں
کسی کروٹ نہیں آرام جی کو
عجب اک کھلبلی ہے اور میں ہوں
مسلسل اب در و دیوار جاں سے
اداسی جھانکتی ہے اور میں ہوں
کیا جھجھکنا، کیا لجانا، رقص کر
اٹھ میاں! اٹھ، والہانہ رقص کر
تجھ سے کوئی کام ہونے کا نہیں
چھوڑ فکرِ آب و دانہ، رقص کر
قریہ قریہ رقص کی محفل رچا
کوچہ کوچہ دلبرانہ رقص کر
دل نگر اُداسی کا
یہ سفر اداسی کا
ساری بستی خوشیوں کی
ایک گھر اداسی کا
اک پڑاؤ خوشیوں کا
اک ٹھہر اداسی کا