Showing posts with label رضی الرحمٰن. Show all posts
Showing posts with label رضی الرحمٰن. Show all posts

Friday, 16 September 2022

میں تو جو بھی لکھتا ہوں دل کے ساتھ لکھتا ہوں

 میں تو جو بھی لکھتا ہوں، دل کے ساتھ لکھتا ہُوں

شعر تو نہیں لکھتا،۔ واردات لکھتا ہوں

بیٹھا بیٹھا دفتر میں، اونگھتا ہوں سارا دن

ساری رات جگتا ہوں، ساری رات لکھتا ہوں

وہ تو میری غزلیں بھی، اس طرح سے پڑھتی ہے

جیسے میں انوکھی ہی، کوئی بات لکھتا ہوں

Thursday, 25 August 2022

چونکہ تیرے بنا گزارہ نہیں

 چونکہ تیرے بِنا گزارہ نہیں

اس لیے بھی تجھے پکارا نہیں

زِندگی ایک بار ہے، یعنی

لطف یہ پھر کبھی دوبارہ نہیں

تیری صورت کو بھی ترستے تھے

اب تیرا ذکر بھی گوارا نہیں

Wednesday, 17 August 2022

تمہاری بے حسی ہے اور تم ہو

 تمہاری بے حِسی ہے اور تم ہو

میری دیوانگی ہے اور میں ہوں

کسی کروٹ نہیں آرام جی کو

عجب اک کھلبلی ہے اور میں ہوں

مسلسل اب در و دیوار جاں سے

اداسی جھانکتی ہے اور میں ہوں

کیا جھجھکنا کیا لجانا رقص کر

 کیا جھجھکنا، کیا لجانا، رقص کر

اٹھ میاں! اٹھ، والہانہ رقص کر

تجھ سے کوئی کام ہونے کا نہیں

چھوڑ فکرِ آب و دانہ، رقص کر

قریہ قریہ رقص کی محفل رچا

کوچہ کوچہ دلبرانہ رقص کر

Tuesday, 18 May 2021

دل نگر اداسی کا یہ سفر اداسی کا

 دل نگر اُداسی کا

یہ سفر اداسی کا

ساری بستی خوشیوں کی

ایک گھر اداسی کا

اک پڑاؤ خوشیوں کا

اک ٹھہر اداسی کا