Showing posts with label شازیہ مفتی. Show all posts
Showing posts with label شازیہ مفتی. Show all posts

Wednesday, 15 December 2021

کتنے دسمبر بیت گئے

 رستہ تکتا دروازہ


جس کی آنکھیں پتھر ہو گئیں

کتنے دسمبر بیت گئے

کتنی بہاریں لَوٹ گئیں

جانے والے بُھول گئے

دُور کہیں اک دروازہ ہے

Tuesday, 12 October 2021

خیال یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

 خیالِ یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں

میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں

بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں

تمہارے پیار کا قرضہ چُکا کے آئی ہوں

چراغِ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود

تمہاری آنکھوں کے دیپک بُجھا کے آئی ہوں

Saturday, 17 July 2021

اپنا ہر دکھ خود سے کہنا

 اپنا ہر دکھ خود سے کہنا


خود ہی اپنی سَکھی سہیلی

دن بھر کی سب چھوٹی سے بھی چھوٹی باتیں

دُور کسی گنجان سڑک پہ چلتے چلتے

جب پاؤں اک پتھر سے ٹکرایا تھا تو

کیسے میں چُھوئی موئی سی بیچ سڑک اُس شام گری تھی

Friday, 28 May 2021

دھند کی اوڑھنی کو سرکاتی

 الاؤ


دُھند کی اوڑھنی کو سرکاتی 

دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی ہوئی

گاہے رُکتی ہے، گاہے چلتی ہے 

رات اپنے کسی سفر پر ہے 

سُوکھی، گیلی سُلگتی سانسوں سے 

ناگہاں ایک شعلہ اُٹھتا ہے 

Thursday, 27 May 2021

اسے مجھ سے محبت ہے

 اسے مجھ سے محبت ہے


مگر کتنی میں جب بھی سوچتی ہوں تو

مِری پلکوں کے پردے پر

ستارے جھِلملاتے ہیں

محبت کیا کوئی ایسا خسارہ ہے کہ جو پورا نہیں ہوتا

اگر ایسا نہیں ہے تو مِری آنکھوں کی وحشت کا یہ عالم کیوں نہیں جاتا

Monday, 24 May 2021

یاد کے آخری جزیروں پر سوچ کا اک کھلا سمندر ہے

 یاد کے آخری جزیروں پر 

سوچ کا اک کُھلا سمندر ہے 

اور سفر بے نشان قدموں کا 

اَن کہے اور کہے سے لفظوں کا

جا بجا کچھ پرانے دوست پیڑ

پیاسی زمین سے پیوست 

Sunday, 18 April 2021

مرا دل رہ گیا ہے تمہارے پاس تکیے کے کہیں نیچے

 نارسائی


مِرا دل رہ گیا ہے

تمہارے پاس تکیے کے کہیں نیچے

جہاں تم خواب رکھتے تھے

کتابوں کی تہوں میں

تم جہاں پر پھول رکھتے تھے

Saturday, 17 April 2021

بے مول ہے تو

 بے مول ہے تُو


مِرے دل تو مجھ سے خفا نہ ہو

تِری آہیں اور تِری سسکیاں

مجھے بے قرار کئے رہیں

میں گئی تھی اس کی گلی میں کل

وہاں تیری کوئی جگہ نہیں