رستہ تکتا دروازہ
جس کی آنکھیں پتھر ہو گئیں
کتنے دسمبر بیت گئے
کتنی بہاریں لَوٹ گئیں
جانے والے بُھول گئے
دُور کہیں اک دروازہ ہے
رستہ تکتا دروازہ
جس کی آنکھیں پتھر ہو گئیں
کتنے دسمبر بیت گئے
کتنی بہاریں لَوٹ گئیں
جانے والے بُھول گئے
دُور کہیں اک دروازہ ہے
خیالِ یار سے دامن چھڑا کے آئی ہوں
میں اپنے کاندھے پہ آنسو بہا کے آئی ہوں
بہت سا بوجھ تھا دل پر سو دشت الفت میں
تمہارے پیار کا قرضہ چُکا کے آئی ہوں
چراغِ شب تھا مجھے دیکھ کر تمہارا وجود
تمہاری آنکھوں کے دیپک بُجھا کے آئی ہوں
اپنا ہر دکھ خود سے کہنا
خود ہی اپنی سَکھی سہیلی
دن بھر کی سب چھوٹی سے بھی چھوٹی باتیں
دُور کسی گنجان سڑک پہ چلتے چلتے
جب پاؤں اک پتھر سے ٹکرایا تھا تو
کیسے میں چُھوئی موئی سی بیچ سڑک اُس شام گری تھی
الاؤ
دُھند کی اوڑھنی کو سرکاتی
دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتی ہوئی
گاہے رُکتی ہے، گاہے چلتی ہے
رات اپنے کسی سفر پر ہے
سُوکھی، گیلی سُلگتی سانسوں سے
ناگہاں ایک شعلہ اُٹھتا ہے
اسے مجھ سے محبت ہے
مگر کتنی میں جب بھی سوچتی ہوں تو
مِری پلکوں کے پردے پر
ستارے جھِلملاتے ہیں
محبت کیا کوئی ایسا خسارہ ہے کہ جو پورا نہیں ہوتا
اگر ایسا نہیں ہے تو مِری آنکھوں کی وحشت کا یہ عالم کیوں نہیں جاتا
یاد کے آخری جزیروں پر
سوچ کا اک کُھلا سمندر ہے
اور سفر بے نشان قدموں کا
اَن کہے اور کہے سے لفظوں کا
جا بجا کچھ پرانے دوست پیڑ
پیاسی زمین سے پیوست
نارسائی
مِرا دل رہ گیا ہے
تمہارے پاس تکیے کے کہیں نیچے
جہاں تم خواب رکھتے تھے
کتابوں کی تہوں میں
تم جہاں پر پھول رکھتے تھے
بے مول ہے تُو
مِرے دل تو مجھ سے خفا نہ ہو
تِری آہیں اور تِری سسکیاں
مجھے بے قرار کئے رہیں
میں گئی تھی اس کی گلی میں کل
وہاں تیری کوئی جگہ نہیں