نہ چھیڑ قصۂ غم ہائے دوستی مِرے دوست
یہ ایک تلخ فسانہ ہے، پھر کبھی مِرے دوست
ہر اک کے بس کی کہاں ہے یہ زندگی مِرے دوست
گزارتے ہیں جو ہم تم ہنسی خوشی مِرے دوست
زمانہ کیسے کرے گا مجھے نظر انداز؟
گلی گلی مِرے دشمن گلی گلی مِرے دوست
نہ چھیڑ قصۂ غم ہائے دوستی مِرے دوست
یہ ایک تلخ فسانہ ہے، پھر کبھی مِرے دوست
ہر اک کے بس کی کہاں ہے یہ زندگی مِرے دوست
گزارتے ہیں جو ہم تم ہنسی خوشی مِرے دوست
زمانہ کیسے کرے گا مجھے نظر انداز؟
گلی گلی مِرے دشمن گلی گلی مِرے دوست
سرمئیں دیدۂ گریاں کو بہت یاد کیا
ہم نے اس جانِ تمنا کو بہت یاد کیا
ایک دیکھا ہوا احوال سناتا ہوں تمہیں
ڈوبنے والے نے نیّا کو بہت یاد کیا
کبھی گلدان میں دیکھی جو بکھرتی ہوئی ریت
ایک صحرائی نے صحرا بہت یاد کیا
گھر بنانے کی پریشانی لیے پھرتا ہوں
در بدر بے سر و سامانی لیے پھرتا ہوں
شب کو میں دن سے ملاتا ہوں تو دن کو شب سے
اب یہی سلسلۂ جنبانی لیے پھرتا ہوں
کھلبلی ہے میرے انفاس کے دریا میں بہت
کون سا موجۂ طوفانی لیے پھرتا ہوں
گلابِ ہجر کا تحفہ تھما گیا اک شخص
ملے بغیر ہی مجھ سے چلا اک شخص
کہیں پہ شمع، کہیں پہ دیا، کہیں مشعل
جلانا کام تھا اس کا جلا گیا اک شخص
کسی کو رات سے پہلے سلایا گہری نیند
کسی کو صبح سے پہلے جگا گیا اک شخص