Showing posts with label اقبال پیرزادہ. Show all posts
Showing posts with label اقبال پیرزادہ. Show all posts

Sunday, 20 September 2020

نہ چھیڑ قصہ غم ہائے دوستی مرے دوست

نہ چھیڑ قصۂ غم ہائے دوستی مِرے دوست

یہ ایک تلخ فسانہ ہے، پھر کبھی مِرے دوست

ہر اک کے بس کی کہاں ہے یہ زندگی مِرے دوست

گزارتے ہیں جو ہم تم ہنسی خوشی مِرے دوست

زمانہ کیسے کرے گا مجھے نظر انداز؟

گلی گلی مِرے دشمن گلی گلی مِرے دوست

Saturday, 19 September 2020

سرمئیں دیدۂ گریاں کو بہت یاد کیا

 سرمئیں دیدۂ گریاں کو بہت یاد کیا

ہم نے اس جانِ تمنا کو بہت یاد کیا 

ایک دیکھا ہوا احوال سناتا ہوں تمہیں

ڈوبنے والے نے نیّا کو بہت یاد کیا

کبھی گلدان میں دیکھی جو بکھرتی ہوئی ریت

ایک صحرائی نے صحرا بہت یاد کیا

گھر بنانے کی پریشانی لیے پھرتا ہوں

 گھر بنانے کی پریشانی لیے پھرتا ہوں

در بدر بے سر و سامانی لیے پھرتا ہوں

شب کو میں دن سے ملاتا ہوں تو دن کو شب سے

اب یہی سلسلۂ جنبانی لیے پھرتا ہوں

کھلبلی ہے میرے انفاس کے دریا میں بہت 

کون سا موجۂ طوفانی لیے پھرتا ہوں

Thursday, 17 September 2020

گلاب ہجر کا تحفہ تھما گیا اک شخص

 گلابِ ہجر کا تحفہ تھما گیا اک شخص

ملے بغیر ہی مجھ سے چلا اک شخص

کہیں پہ شمع، کہیں پہ دیا، کہیں مشعل

جلانا کام تھا اس کا جلا گیا اک شخص

کسی کو رات سے پہلے سلایا گہری نیند

کسی کو صبح سے پہلے جگا گیا اک شخص

Wednesday, 16 September 2020

ہو کر صف اغیار میں شامل میرے آگے

ہو کر صف اغیار میں شامل میرے آگے
احباب نے توڑا ہے مرا دل میرے آگے
اک عمر سے آنکھوں نے یہ منظر نہیں دیکھا
اے غنچۂ امید! کبھی کھل میرے آگے
وہ صاحبِ اعجازِ قناعت ہوں کہ تھک کر
آسانی میں ڈھل جاتی ہے مشکل میرے آگے

Monday, 14 September 2020

مجھے دل میں بسا سر پہ سجا نئیں

مجھے دل میں بسا سر پہ سجا نئیں
محبت کر میری قیمت لگا نئیں
گلے سے لگ پر اپنا سر جھکا نئیں
میرا تیرا ہمسفر ہوں  دیوتا نئیں
سفر درپیش ہو گا زندگی کا
سوائے صبر کوئی راستہ نئیں

Sunday, 13 September 2020

جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے

جینا عزیز تر ہو تو پھر دار کیا کرے
بازار ہی نہ ہو تو خریدار کیا کرے
سایہ تو مانگتے ہیں مگر سوچتے نہیں
سورج ہو عین سر پہ تو دیوار کیا کرے
تم بادشاہِ وقت تھے، کٹوا دئیے تھے ہاتھ
اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے

بکھرتے ٹوٹتے سامان پر بنی ہوئی ہے

بکھرتے ٹوٹتے سامان پر بنی ہوئی ہے
ہوا کے ساتھ ہوا دان پر بنی ہوئی ہے
تِرا تو ذائقہ تبدیل ہو گیا،۔ لیکن
نمک حرام نمکدان پر بنی ہوئی ہے
تراشنے کی عمل سے گزارنے والو
عقیق و گوہر و مرجان پر بنی ہوئی ہے

Friday, 11 September 2020

دلوں پہ چوٹ پڑے تو فغاں ضروری ہے

دلوں پہ چوٹ پڑے تو فغاں ضروری ہے
وہاں تو بولو رفیقو، جہاں ضروری ہے
امیرِ وقت! ہمیں مدح خوانی مت سِکھلا
ہمیں خبر ہے، یہ کب اور کہاں ضروری ہے
ہوا بھی قوتِ بازو کا ساتھ دیتی ہے
یہ سچ نہیں کہ فقط بادباں ضروری ہے

Thursday, 10 September 2020

محبت شاد رکھتی ہے

محبت شاد رکھتی ہے

محبت شاد رکھتی ہے
محبت ہی ہمیں آباد رکھتی ہے
یہ وہ کنجی ہے 
جو ہر قفلِ غم گِرہ ستم کو
لمحہ بھر میں کھول دیتی ہے
اور اس میں قید بے بس کو

Wednesday, 9 September 2020

نام لیتا ہوں احترام سے میں

نام لیتا ہوں احترام🙏 سے میں
خوب واقف ہوں تیرے نام سے میں
تاج♚ والے غلام ہیں اس کے
مل کے آیا ہوں اک غلام سے میں
ان گِنت کام یاد آنے لگے
گھر سے نکلا تھا ایک کام سے میں

آئینہ احساس کے مقابل

آئینۂ احساس کے مقابل

بالوں میں تزہیک کی خاک
ماتھے پر رسوائی کے بَل
آنکھ میں وحشت کا سرمہ 
گالوں پہ رنجش کا گلال
ہونٹ پہ خِفت کی لالی