بکھرتے ٹوٹتے سامان پر بنی ہوئی ہے
ہوا کے ساتھ ہوا دان پر بنی ہوئی ہے
تِرا تو ذائقہ تبدیل ہو گیا،۔ لیکن
نمک حرام نمکدان پر بنی ہوئی ہے
تراشنے کی عمل سے گزارنے والو
قلم کا پیٹ کا خالی اور اس کا حلق ہے خشک
قلم✐ بدوش! قلمدان پر بنی ہوئی ہے
گلاب چاک گریبان ہے سبزہ مہر کناں
یہاں تو سارے گلستان پر بنی ہوئی ہے
ملا رہا ہوں تِری شکل سے نجانے کیوں
وہ ایک شبیہ جو گلدان پر بنی ہوئی ہے
اقبال پیرزادہ
No comments:
Post a Comment