Sunday, 13 September 2020

بکھرتے ٹوٹتے سامان پر بنی ہوئی ہے

بکھرتے ٹوٹتے سامان پر بنی ہوئی ہے
ہوا کے ساتھ ہوا دان پر بنی ہوئی ہے
تِرا تو ذائقہ تبدیل ہو گیا،۔ لیکن
نمک حرام نمکدان پر بنی ہوئی ہے
تراشنے کی عمل سے گزارنے والو
عقیق و گوہر و مرجان پر بنی ہوئی ہے
قلم کا پیٹ  کا خالی اور اس کا حلق ہے خشک
قلم✐ بدوش! قلمدان پر بنی ہوئی ہے
گلاب چاک گریبان ہے سبزہ مہر کناں
یہاں تو سارے گلستان پر بنی ہوئی ہے
ملا رہا ہوں تِری شکل سے نجانے کیوں
وہ ایک شبیہ جو گلدان پر بنی ہوئی ہے

اقبال پیرزادہ

No comments:

Post a Comment