Showing posts with label زکریا شاذ. Show all posts
Showing posts with label زکریا شاذ. Show all posts

Wednesday, 27 April 2022

ہم تجھ سے کوئی بات بھی کرنے کے نہیں تھے

 ہم تجھ سے کوئی بات بھی کرنے کے نہیں تھے

امکان بھی حالات سنورنے کے نہیں تھے

بھر ڈالا انہیں بھی مِری بیدار نظر نے

جو زخم کسی طور بھی بھرنے کے نہیں تھے

اے زیست ادھر دیکھ کہ ہم نے تِری خاطر

وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے

Saturday, 27 November 2021

محبتوں میں کمال کر کے بھی کیا ملا ہے

 محبتوں میں کمال کر کے بھی کیا ملا ہے

دھڑکتے دل کو دھمال کر کے بھی کیا ملا ہے

ملے جو پرسانِ حال آنسو بہا گئے وہ

انہیں شناسائے حال کر کے بھی کیا ملا ہے

ہو وصل چاہے کہ ہجر لیکن ہو مستقل وہ

بہم فراق و وصال کر کے بھی کیا ملا ہے

Thursday, 17 December 2020

کس قیامت کی گھٹن طاری ہے

 کس قیامت کی گھٹن طاری ہے

روح پر کب سے بدن طاری ہے

کون یہ سایہ فگن ہے آخر

میرے سورج پہ گہن طاری ہے

بات کیا اور نئی ہم سوچیں

جب وہی چرخ کہن طاری ہے

Saturday, 5 December 2020

اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے

 اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے

پھر اس کے بعد میز پہ چائے پڑی رہے

ایسا نہیں کہ ہم کریں باتیں نہ بے حساب

لیکن یہ کیا کہ کیل سی دل میں گڑی رہے

پھر گھر میں ایک آہنی پنجرہ دکھائی دے

کھڑکی میں کافی دیر جو لڑکی کھڑی رہے

Friday, 31 July 2020

جانے وہ دن کہاں گئے خوابوں بھرے ہوئے

رستے تھے دھوپ میں بھی سحابوں بھرے ہوئے
جانے وہ دن کہاں گئے خوابوں بھرے ہوئے
وہ لہر اب کہاں رہی،۔ وہ موج اب کہاں
بس نین رہ گئے ہیں چنابوں بھرے ہوئے
خاموش اگر نہیں رہے تو کیا کرے کوئی
سارے سوال جب ہوئے جوابوں بھرے ہوئے

دل جو مل بھی جائیں تو قسمتیں نہیں ملتیں

کب گلی محلے میں رونقیں نہیں ملتیں
لیکن اب وہ پہلی سی صورتیں نہیں ملتیں
جس طرف بھی جاتے ہیں جمگھٹے ہیں لوگوں کے
جمگھٹے ہی ملتے ہیں، محفلیں نہیں ملتیں
کیسے ایک جیسے ہوں تجربے محبت میں
سب کو ایک جیسی تو چاہتیں نہیں ملتیں

Thursday, 30 July 2020

کوئی اس مکان میں دیر تک نہیں رہا

پھر وہ میرے دھیان میں دیر تک نہیں رہا
پھول پھولدان میں دیر تک نہیں رہا
وہ بھی موج موج کا سامنا نہ کر سکا
میں بھی درمیان میں دیر تک نہیں رہا
جانے کس خیال سے رابطہ ہوا نہیں
جانے کس جہان میں دیر تک نہیں رہا

عجب حالات میں رکھا ہوا ہوں

عجب حالات میں رکھا ہوا ہوں
نہ دن نے رات میں رکھا ہوا ہوں
تعلق ہی نہیں ہے جن سے میرا
میں ان صدمات میں رکھا ہوا ہوں
کبھی آتا نہیں تھا ہاتھ اپنے
اب اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہوں

Wednesday, 29 July 2020

یہ جو رواں دواں ہوں میں اپنے لئے کہاں ہوں میں

یہ جو رواں دواں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں
جیسا ہوں میں جہاں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں
جل کے بھی  ہوں بجھا ہوا، بجھ کے بھی ہوں جلا ہوا
آگ ہوں یا دھواں ہوں میں؟ اپنے لیے کہاں ہوں میں
جو بھی مِرے "قرِیں" رہا، میرے لیے نہیں رہا
سب کے جو درمیاں ہوں میں اپنے لیے کہاں ہوں میں

صدائیں اتنی اونچی ہیں کہ مدھم سوچتے ہیں

صدائیں اتنی اونچی ہیں کہ مدھم سوچتے ہیں
سو اب ہم سوچنے والے بھی کم کم سوچتے ہیں
کسی سے بات کیا کرنی، ٹھہرنا کس لیے پھر
جہاں پر زخم سے پہلے ہی مرہم سوچتے ہیں
بنائیں نقش تو اس کو مٹا دیتے ہیں خود ہی
اگر ہم سوچتے بھی ہیں تو برہم سوچتے ہیں

Monday, 27 July 2020

اے لڑکی اے اور طرح کی باتوں والی

اے لڑکی

اے اور طرح کی باتوں والی
جھوٹ اور کھوٹ سے خالی
لڑکی
تُو نے
کیسی سرشاری، دلداری سے
ایک انوکھی من موہنی
فرمائش کی ہے

کبھی یوں بھی مجھے اس کی محبت گھیر لیتی ہے

کبھی یوں بھی مجھے اس کی محبت گھیر لیتی ہے
اچانک جیسے بچوں کو شرارت گھیر لیتی ہے
بہت سرشار رکھتا ہے اسے بھی گیت بارش کا
مجھے بھی ایک البیلی مسرّت گھیر لیتی ہے
فسانہ ساز گلیوں کی بہت ہم سیر کرتے ہیں
مگر اِک وقت آتا ہے، حقیقت گھیر لیتی ہے

Sunday, 29 June 2014

نہ بنے آنکھ کا تارا یہ ضروری تو نہیں

نہ بنے آنکھ کا تارا، یہ ضروری تو نہیں
ہو کوئی چاند سا پیارا، یہ ضروری تو نہیں
فائدہ ایک ہو سب کا، یہ تو ہو سکتا ہے
ایک جیسا ہو خسارہ، یہ ضروری تو نہیں
یہ بھی ممکن ہے کہ پردہ کوئی پردہ ہی نہ ہو
اور نظارہ ہو نظارہ، یہ ضروری تو نہیں

راجا ہے کوئی اس میں نہ رانی ہے مرے دوست

راجا ہے کوئی اس میں نہ رانی ہے مِرے دوست
اپنی تو کوئی اور کہانی ہے مرے دوست
تم ساتھ ہو میرے تو کہا میں نے ہے، ورنہ
کب شام یہ اتنی بھی سہانی ہے مرے دوست
میں سامنے تیرے ہوں اِدھر دیکھ تُو مجھ کو
تصویر تو البم میں پرانی ہے مرے دوست