ہم تجھ سے کوئی بات بھی کرنے کے نہیں تھے
امکان بھی حالات سنورنے کے نہیں تھے
بھر ڈالا انہیں بھی مِری بیدار نظر نے
جو زخم کسی طور بھی بھرنے کے نہیں تھے
اے زیست ادھر دیکھ کہ ہم نے تِری خاطر
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
ہم تجھ سے کوئی بات بھی کرنے کے نہیں تھے
امکان بھی حالات سنورنے کے نہیں تھے
بھر ڈالا انہیں بھی مِری بیدار نظر نے
جو زخم کسی طور بھی بھرنے کے نہیں تھے
اے زیست ادھر دیکھ کہ ہم نے تِری خاطر
وہ دن بھی گزارے جو گزرنے کے نہیں تھے
محبتوں میں کمال کر کے بھی کیا ملا ہے
دھڑکتے دل کو دھمال کر کے بھی کیا ملا ہے
ملے جو پرسانِ حال آنسو بہا گئے وہ
انہیں شناسائے حال کر کے بھی کیا ملا ہے
ہو وصل چاہے کہ ہجر لیکن ہو مستقل وہ
بہم فراق و وصال کر کے بھی کیا ملا ہے
کس قیامت کی گھٹن طاری ہے
روح پر کب سے بدن طاری ہے
کون یہ سایہ فگن ہے آخر
میرے سورج پہ گہن طاری ہے
بات کیا اور نئی ہم سوچیں
جب وہی چرخ کہن طاری ہے
اس کا خیال دل میں گھڑی دو گھڑی رہے
پھر اس کے بعد میز پہ چائے پڑی رہے
ایسا نہیں کہ ہم کریں باتیں نہ بے حساب
لیکن یہ کیا کہ کیل سی دل میں گڑی رہے
پھر گھر میں ایک آہنی پنجرہ دکھائی دے
کھڑکی میں کافی دیر جو لڑکی کھڑی رہے