Saturday, 1 August 2026

شعلۂ چاہت کو کچھ بھڑکا گیا

 چند لمحے مجھ سے ملنے آ گیا

شعلۂ چاہت کو کچھ بھڑکا گیا

میرا غم تو بڑھ گیا ہے اور تُو

اپنی دانست میں مجھے بہلا گیا

اپنی قسمت پر نہ ہو نازاں رہے

چاہنے والا کہ جو چاہا گیا

جانتا ہوں میری چاہت پا کے تُو

آج کچھ اپنے تئیں اِترا گیا

تُو مِرا ہے اور میں تیرا اسِیر

زندگی کا لُطف نزہت آ گیا


نزہت صدیقی

No comments:

Post a Comment