Wednesday, 19 August 2026

کہیں یہ پھول سی باتیں دیکھو بھول نہ جانا

 اس کو یقین دہانی


کہیں یہ پُھول سی باتیں

دیکھو بھُول نہ جانا

وہ پُورے چاند کی راتیں

دیکھو بھُول نہ جانا

اکٹھے مِل کے رونا بھی

اِکٹھے مِل کے ہنس دینا

وہ کھٹی مِیٹھی سوغاتیں

دیکھو بھُول نہ جانا

کبھی کُچھ جاں گُسل لمحے

حِصارِ دل اگر کر لیں

کٹ جاتیں سبھی راتیں

دیکھو بھُول نہ جانا


شہزاد احمد اعوان

No comments:

Post a Comment