Saturday, 15 August 2026

گنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

 گُنہگاروں کی بخشش گر انہیں منظور ہو جائے

سیاہی نامۂ عِصیاں کی خُود کافُور ہو جائے

گئی تھیں دُور تک چِھینٹیں لہُو کی ذبح کرنے میں

ہمارے قتل کا قِصہ نہ کیوں مشہُور ہو جائے

اسیرِ گیسُوئے پُر پیچ کو کیا لُطف جینے کا

شبِ فُرقت کی تاریکی اگر کافُور ہو جائے

سرِ بالِیں عیادت کو دمِ آخر جو آ جاؤ

توقع ہے کہ جانبر عاشقِ رنجُور ہو جائے

اگر تم ہاتھ رکھ دو سینۂ واصف پر اُلفت سے

یقیں ہے اضطرابِ قلبِ مُضطِر دُور ہو جائے


واصف رودولوی 

حکیم محمد واصف مرزا

No comments:

Post a Comment