Monday, 17 August 2026

دل کو شاداب کیے رکھتا ہے نم آنکھوں کا

 دل کو شاداب کیے رکھتا ہے نم آنکھوں کا

رکھ لیا ایک ہی بھرم آنکھوں کا آنکھوں کا

خشک آنکھوں میں بھی خوابوں کے سمندر جاگے

بھول سکتا ہوں کہاں خود پہ کرم آنکھوں کا

حسرتِ دید میں شب بھر یہ کھلی رہتی ہیں

کر دیا شوخ نے کیا ناک میں دم آنکھوں کا

غمزدہ دیکھ کے ان کو یہ چھلک جاتی ہیں

جن کو محسوس بھی ہوتا نہیں غم آنکھوں کا

آپ اس خواب کی تعبیر میں ڈھل جاتے ہیں

چھیڑ دیتے ہیں کبھی ذکر جو ہم آنکھوں کا

مجھے سے کم فہم کو لکھنے کا قرینہ بخشا

کیوں نہ ممنون کو بابر یہ قلم آنکھوں کا


غفار بابر

No comments:

Post a Comment