دل کو شاداب کیے رکھتا ہے نم آنکھوں کا
رکھ لیا ایک ہی بھرم آنکھوں کا آنکھوں کا
خشک آنکھوں میں بھی خوابوں کے سمندر جاگے
بھول سکتا ہوں کہاں خود پہ کرم آنکھوں کا
حسرتِ دید میں شب بھر یہ کھلی رہتی ہیں
کر دیا شوخ نے کیا ناک میں دم آنکھوں کا
غمزدہ دیکھ کے ان کو یہ چھلک جاتی ہیں
جن کو محسوس بھی ہوتا نہیں غم آنکھوں کا
آپ اس خواب کی تعبیر میں ڈھل جاتے ہیں
چھیڑ دیتے ہیں کبھی ذکر جو ہم آنکھوں کا
مجھے سے کم فہم کو لکھنے کا قرینہ بخشا
کیوں نہ ممنون کو بابر یہ قلم آنکھوں کا
غفار بابر
No comments:
Post a Comment