Tuesday, 25 August 2026

کب تک اے یاد ستائے گی مجھے

 کب تک اے یاد ستائے گی مجھے

کب تک اے موت بھلائے گی مجھے

غیرتِ عشق چُھپائے گی مجھے

نظرِ غیر نہ پائے گی مجھے

کب تک اے شمع سرِ شامِ حیات

روئے گی اور رُلائے گی مجھے

زندگی! ختم ہوئے تیرے کھیل

یا ابھی اور جھِلائے گی مجھے

میں نے پہلے ہی کہا تھا یا رب

زندگی راس نہ آئے گی مجھے

ہوں وہ گُم گشتۂ راہِ اُلفت

زندگی ڈھونڈنے جائے گی مجھے

کیا مصیبت ہے کوئی کام کی بات

وقت پر یاد نہ آئے گی مجھے


نواب سید حکیم احمد نقوی حںفی بدایونی

No comments:

Post a Comment