کب تک اے یاد ستائے گی مجھے
کب تک اے موت بھلائے گی مجھے
غیرتِ عشق چُھپائے گی مجھے
نظرِ غیر نہ پائے گی مجھے
کب تک اے شمع سرِ شامِ حیات
روئے گی اور رُلائے گی مجھے
زندگی! ختم ہوئے تیرے کھیل
یا ابھی اور جھِلائے گی مجھے
میں نے پہلے ہی کہا تھا یا رب
زندگی راس نہ آئے گی مجھے
ہوں وہ گُم گشتۂ راہِ اُلفت
زندگی ڈھونڈنے جائے گی مجھے
کیا مصیبت ہے کوئی کام کی بات
وقت پر یاد نہ آئے گی مجھے
نواب سید حکیم احمد نقوی حںفی بدایونی
No comments:
Post a Comment