Thursday, 6 August 2026

کیا کبھی ان معصوم چہروں کو دیکھا ہے تم نے

 آؤ خُوشیاں بانٹیں


کیا کبھی ان معصوم چہروں کو

دیکھا ہے تم نے

رنگ ہیں نہ ہی ہنسی

نہ آنکھوں میں چمک ہے

نہ دلوں میں بسی کوئی خُوشی

جسم خالی ہیں اُن کے قوّتوں سے 

ناتوانیوں کے طُوفاں میں

ہے ناؤ زندگی کی پھنسی

اور تمہیں تو معلوم ہی ہے نہ

کہ کچھ خواب ہیں ان بچوں کے بھی

کچھ سپنے پُورے ہونے ہیں

ابھی اک زیست اُنہیں جینی ہے

بن کِھلے پھُول  کِھلنے ہیں

لیکن پھر جب

چھوٹی، چھوٹی قبروں میں

یہ ننھے پھُول سماتے ہیں

ہر دل پر تیر سے چلتے ہیں

ہر آنکھ میں آنسو آتے ہیں

اچھا خیر

 اب چھوڑو پرُانی باتوں کو

چلو آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں

خُوشیاں بکھیر دیتے ہیں

آنسو چُرا لیتے ہیں

ننّھے مُنے پھولوں کو

مرجھانے سے بچا لیتے ہیں

بچوں کو بتا دیتے ہیں

کہ ہاتھوں میں تھامے ہاتھ

ہم سب اُن کے ساتھ ہیں

ایک زندگی کو جو بچا لیا ہم نے

سمجھو ایک فرض نِبھا دیا ہم نے

اُداس آنکھوں میں بسے سپنوں کو

ہم مِل کر سچ کر دیتے ہیں

چلو آؤ کچھ ایسا کرتے ہیں

چلو آؤ

کچھ ایسا کرتے ہیں


کاشف شمیم صدیقی

No comments:

Post a Comment