جب اپنے دل پہ اپنا کچھ اختیار دیکھا
بیگانہ خُو حسیں کو بیگانہ وار دیکھا
پیہم تجلیوں کی مجھ میں سکت کہاں تھی
نظریں چُرا چُرا کر سُوئے نگار دیکھا
آج اپنی بیخودی کو عرفاں کی روشنی میں
اس ماہِ سِیم تن کا آئینہ دار دیکھا
تیری عنایتوں سے انجام بیں نظر میں
آغازِ عشق ہی میں انجام کار دیکھا
یہ بھولی بھولی صُورت اے چاند پھر بھی تُو نے
میری طرف سے اپنے دل میں غُبار دیکھا
حُسنِ شباب پرور کس درجے سحر زا ہے
دیکھا تِرا زمانہ اے گُلعذار دیکھا
اس شوخ کی گلی میں منظور تفتہ جاں کو
پھر بے قرار پایا، پھر اشکبار دیکھا
علی منظور حیدرآبادی
No comments:
Post a Comment