Saturday, 29 August 2026

کبھی صرصر ہے کبھی باد صبا ہے ساقی

 کبھی صرصر ہے کبھی بادِ صبا ہے ساقی

زندگی سلسلۂ بِیم و رجا ہے ساقی

نہ کدورت ہے کسی سے نہ گِلہ ہے ساقی

میں نے خود اپنے مقدر کو لِکھا ہے ساقی

اپنے ماحول میں شامل ہوں میں اوروں کی طرح

میرے جینے کا مگر طور جُدا ہے ساقی

میرا چہرہ مِرے جذبات کا عکاس نہیں

میرا دل دیکھ جہاں حشر بپا ہے ساقی

کچھ کہیں اہلِ خِرد فکر نہیں ہے مجھ کو

میرے اعمال خُدا دیکھ رہا ہے ساقی

واقفِ راز ہے مے خانۂ ہستی کا نعیم

اس کے ہونٹوں پہ مگر قُفلِ وفا ہے ساقی


نعیم حامد علی

No comments:

Post a Comment