جب دو عالم کو اک نظر دیکھا
تُو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
مِل گئی جس کو کچھ نظر تیری
اس کو دُنیا سے بے خبر دیکھا
شامِ وعدہ نہ آپ آئے، مگر
راستہ ہم نے رات بھر دیکھا
کل جو ہنستے تھے میری حالت پر
آج ان کو بچشمِ تر دیکھا
لاکھ پردے نگاہ چِیر گئی
تم نے ہم سے حجاب کر دیکھا
نہ ہوا جب سکونِ دل طالب
آہ و نالہ بھی ہم نے کر دیکھا
طالب انصاری
No comments:
Post a Comment