عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا
امروز شاہ شاہاں مہماں شدست مارا
نام خدا محمدﷺ ہے کتنا نام پیارا
دل کی مراد پائی جس نے انہیں پکارا
قربان ہوں میں اس کی بندہ نوازیوں پر
پردے میں عبدیت کے اک روپ جس نے دھارا
کڑوے سہی بظاہر یہ گھونٹ جبر غم کے
تم میرے ہو تو جاؤ سب تلخیاں گوارا
ہم آپ ہی کے در کے ٹکڑوں پہ پل رہے ہیں
سب آپﷺ کا تصدق سب آپﷺ کا اتارا
میں کس شمار میں ہوں میری نجات کتنی
بخشش کو میری بس ہے اک آپ کا اشارا
حسن عمل کا غرہ سب سے بڑی مصیبت
دامان مصطفائیﷺ سب سے بڑا سہارا
بک کر کسی کے ہاتھوں بے فکر جی رہے ہیں
ہم خود کسی کے ٹھہرے اب کیا رہا ہمارا
سو عزتوں کی عزت اک ان سے ربط و نسبت
سب کچھ یہی ہے ورنہ کیا تیر ہم نے مارا
طالع اسی کے طالع قسمت اسی کی قسمت
جس پر نظر تمہاری جس پر کرم تمہارا
ہے آپﷺ ہی کے در کا ادنیٰ غلام کامل
اس پر بھی چشم رحمت یا سیدیﷺ خدا را
کامل شطاری
No comments:
Post a Comment