جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے
اسی دل سے نکالا گیا ہے اہتمام سے
پہلے ہوائی زاد بنا کر وہ خوش رہے
پھر ہم کو گِرایا گیا اُونچے مقام سے
گر عشق کو ہم راس نہ آئے تو کیا ہُوا
اب بھی سرِ بازار ہیں کوڑی کے دام سے
دہشت نے اتنا خوف بڑھایا زمانے میں
بچے بھی ڈر رہے ہیں خالی نیام سے
مخمُور ہو رہے تھے کہ ساقی نے ایک دم
ساغر گِرا کے پُوچھ لیا کِس کے جام سے
اب آخری رسُومِ عشق، ان کی گلی میں
یہ جان جانے والی ہے دونوں کے کام سے
الفاظ مر چکے تھے، سو اک شعر واسطے
شجاع حرُوف، ہٹانے پڑے اپنے نام سے
کاشف شجاع
No comments:
Post a Comment