Wednesday, 26 August 2026

جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

 جس دل میں بسایا گیا تھا احترام سے

اسی دل سے نکالا گیا ہے اہتمام سے

پہلے ہوائی زاد بنا کر وہ خوش رہے

پھر ہم کو گِرایا گیا اُونچے مقام سے

گر عشق کو ہم راس نہ آئے تو کیا ہُوا

اب بھی سرِ بازار ہیں کوڑی کے دام سے

دہشت نے اتنا خوف بڑھایا زمانے میں

بچے بھی ڈر رہے ہیں خالی نیام سے

مخمُور ہو رہے تھے کہ ساقی نے ایک دم

ساغر گِرا کے پُوچھ لیا کِس کے جام سے

اب آخری رسُومِ عشق، ان کی گلی میں

یہ جان جانے والی ہے دونوں کے کام سے

الفاظ مر چکے تھے، سو اک شعر واسطے

شجاع حرُوف، ہٹانے پڑے اپنے نام سے


کاشف شجاع

No comments:

Post a Comment