گیت
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
مجھے ڈور کوئی کھینچے تیری اَور لیے جائے
دور رہتی ہے تُو میرے پاس آتی نہیں
ہونٹوں پہ تِرے کبھی پیاس آتی نہیں
ایسا لگے جیسے کہ تُو ہنس کے زہر کوئی پیے جائے
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
مجھے ڈور کوئی کھینچے
بات جب میں کروں مجھے روک دیتی ہے کیوں
تیری نیچی نظر مجھے ٹوک دیتی ہے کیوں
تیری حیا، تیری شرم، تیری قسم میرے ہونٹ سیے جائے
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
مجھے ڈور کوئی کھینچے
ایک رُوٹھی ہوئی تقدیر جیسے کوئی
خاموش ایسے ہے تُو تصویر جیسے کوئی
تیری نظر بن کے زباں لیکن تیرے پیغام دئیے جائے
یہ شام مستانی مدہوش کیے جائے
مجھے ڈور کوئی کھینچے
آنند بخشی
No comments:
Post a Comment