Tuesday, 11 August 2026

عشق جائی کہاں سے آئی ہے

 عشق جائی کہاں سے آئی ہے

یہ جُدائی کہاں سے آئی ہے

جب گئی تھی جوان لڑکی تھی

بوڑھی مائی کہاں سے آئی ہے

میں نکمّا ہوں مانتا بھی ہوں

کامیابی کہاں سے آئی ہے

اس محبت کو خُود ہی چھوڑا تھا

جا چکی تھی کہاں سے آئی ہے

میں تمہارے بغیر مر جاؤں

اتنی ہستی کہاں سے آئی ہے

عشق کرتی ہے تو نمازوں سے

نیک لڑکی کہاں سے آئی ہے

بے وفا ہے وقاص یوسف بس

صاف ستھری کہاں سے آئی ہے


وقاص یوسف

No comments:

Post a Comment