لذتِ صحرا نوردی دُورئ منزل میں ہے
خواہشِ آسُودگی پھر کیوں ابھی سے دل میں ہے
اس کی لے پر سب ہیں رقصاں چاند، تارے، آفتاب
کیا کشش اے شاہدِ قُدرت! تِری پائل میں ہے
ان کو مِل جاتا ہے ساحل قلزمِ آفات میں
جن کو اک کامِل عقیدت رہبرِ کامل میں ہے
بے نیازی سے مِری جانب اگر دیکھا تو کیا
یہ بھی کیا کم ہے کہ میری یاد ان کے دل میں ہے
ہو کے اے پرواز! رُسوا ہم اُٹھے جس بزم سے
ایک وِیرانی سی طاری آج اس محفل میں ہے
پرواز نورپوری
رام سروپ شرما
No comments:
Post a Comment