Sunday, 9 August 2026

ایک نئے رہزن کے گھر اک نیا مسافر لائی رات

 اندھی راہوں کی الجھن میں بیچاری گھبرائی رات 

پہلے لہو میں پھر آنسو میں پھر کرنوں میں نہائی رات

اک پردے کو اٹھ جانا تھا اک چہرے کو آنا تھا 

کتنی حسیں تھی کتنی دل کش شرمائی شرمائی رات

ہر شاخ گل میں تھی یہ نرمی غنچے تک گر جاتے تھے 

آج ہر اک ٹہنی پتھر ہے کیسی آندھی لائی رات

ایک کرشمہ اک دھوکا تھا ایک تحیر سازی تھی 

لیکن اک عالم نے یہ سمجھا کہ دن سے ٹکرائی رات

ایک نیا در ایک نیا گھر ایک نیا ہنگامہ ہے 

ایک نئے رہزن کے گھر اک نیا مسافر لائی رات


پیغام آفاقی

No comments:

Post a Comment