جب اپنی آنکھوں سے اشکوں کا قافلہ نکلا
کِنارے ٹُوٹے تو دریا کا حوصلہ نکلا
وہ میری بزم میں آئے رقیب کے ہمراہ
چلو کہ ملنے کا کوئی تو سلسلہ نکلا
ملیں نہ آج بھی بچوں کو روٹیاں شاید
وہ گھر سے صبح یہی سوچتا ہوا نکلا
وہ اک ورق کہ مِرا نام جس پہ لکھا تھا
تِری کتاب میں وہ کیوں مٹا مٹا نکلا
میں اپنے چہرے پہ خوشیاں سجا تو لایا مگر
ہر ایک شخص مِرے غم سے آشنا نکلا
میں اپنا حال سُنانے لگا جسے راہی
تو اس کا درد مِرے درد سے سوا نکلا
کاظم رضا راہی
No comments:
Post a Comment