Showing posts with label سیف عرفان. Show all posts
Showing posts with label سیف عرفان. Show all posts

Sunday, 11 February 2024

لوگوں کا اک ہجوم ہے ایسا نہیں ہے دوست

 لوگوں کا اک ہجوم ہے ایسا نہیں ہے دوست

بس ایک تو ہی شہر میں تنہا نہیں ہے دوست

جس پر ہو عکس تھوڑا بہت میرے درد کا

ایسا کوئی نگاہ میں چہرہ نہیں ہے دوست

جس طرح آپ آئے سنا کر چلے گئے

اتنا بھی مختصر مرا قصہ نہیں ہے دوست

Sunday, 26 November 2023

دکھ کے عالم میں بھی بس ایک سہارا دکھ ہے

 دُکھ کے عالم میں بھی بس ایک سہارا دُکھ ہے

خُوش تو بس یوں ہیں کے اس بار تمہارا دکھ ہے

جیت کر لاؤ تو خُوشیوں کا سبب بنتا ہے

ہار جاؤ تو مِرے یار! ستارہ دکھ ہے

آسماں والوں نے اس بار بھی دُکھ بھیجا تھا

آسماں والوں نے اب کے بھی اُتارا دکھ ہے

Saturday, 25 November 2023

سفر طویل ہو اور رہنما خراب نہ ہو

 سفر طویل ہو اور رہ نما خراب نہ ہو

تو منزلوں کا کبھی ذائقہ خراب نہ ہو

ہم اضطراب میں ہیں جنگ کیسے رُک جائے

تمہیں یہ فکر کے بس قاعدہ خراب نہ ہو

ہر ایک رنگ پھر اس دل کو راس آتا ہے

جو دیکھنے کا اگر زاویہ خراب نہ ہو

Sunday, 23 October 2022

کوشش تو بارہا تھی مری پر نہ بن سکا

 کوشش تو بارہا تھی مِری پر نہ بن سکا

خوابوں کا اک مکاں تو بنا گھر نہ بن سکا

بنتا رہا، بگڑتا رہا، عمر بھر یہ دل

لیکن تمام عمر یہ پتھر نہ بن سکا

مسند کے آگے اتنا جھکایا ہے اپنا سر

بچوں کا میرے دھڑ تو بنا سر نہ بن سکا