لوگوں کا اک ہجوم ہے ایسا نہیں ہے دوست
بس ایک تو ہی شہر میں تنہا نہیں ہے دوست
جس پر ہو عکس تھوڑا بہت میرے درد کا
ایسا کوئی نگاہ میں چہرہ نہیں ہے دوست
جس طرح آپ آئے سنا کر چلے گئے
اتنا بھی مختصر مرا قصہ نہیں ہے دوست
لوگوں کا اک ہجوم ہے ایسا نہیں ہے دوست
بس ایک تو ہی شہر میں تنہا نہیں ہے دوست
جس پر ہو عکس تھوڑا بہت میرے درد کا
ایسا کوئی نگاہ میں چہرہ نہیں ہے دوست
جس طرح آپ آئے سنا کر چلے گئے
اتنا بھی مختصر مرا قصہ نہیں ہے دوست
دُکھ کے عالم میں بھی بس ایک سہارا دُکھ ہے
خُوش تو بس یوں ہیں کے اس بار تمہارا دکھ ہے
جیت کر لاؤ تو خُوشیوں کا سبب بنتا ہے
ہار جاؤ تو مِرے یار! ستارہ دکھ ہے
آسماں والوں نے اس بار بھی دُکھ بھیجا تھا
آسماں والوں نے اب کے بھی اُتارا دکھ ہے
سفر طویل ہو اور رہ نما خراب نہ ہو
تو منزلوں کا کبھی ذائقہ خراب نہ ہو
ہم اضطراب میں ہیں جنگ کیسے رُک جائے
تمہیں یہ فکر کے بس قاعدہ خراب نہ ہو
ہر ایک رنگ پھر اس دل کو راس آتا ہے
جو دیکھنے کا اگر زاویہ خراب نہ ہو
کوشش تو بارہا تھی مِری پر نہ بن سکا
خوابوں کا اک مکاں تو بنا گھر نہ بن سکا
بنتا رہا، بگڑتا رہا، عمر بھر یہ دل
لیکن تمام عمر یہ پتھر نہ بن سکا
مسند کے آگے اتنا جھکایا ہے اپنا سر
بچوں کا میرے دھڑ تو بنا سر نہ بن سکا