کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں
مر جائے گی خوشبو بند کتابوں میں
کبھی درونِ ذات کے منظر تھے ان میں
کنکر ہی کنکر ہیں اب تالابوں میں
ہاتھ لگاتے ہی مٹی کا ڈھیر ہوئے
کیسے کیسے رنگ بھرے تھے خوابوں میں
کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں
مر جائے گی خوشبو بند کتابوں میں
کبھی درونِ ذات کے منظر تھے ان میں
کنکر ہی کنکر ہیں اب تالابوں میں
ہاتھ لگاتے ہی مٹی کا ڈھیر ہوئے
کیسے کیسے رنگ بھرے تھے خوابوں میں
چراغِ شوق جلا کر کہاں سے جانا تھا
ہمیں تو ہو کے صفِ دشمناں سے جانا تھا
یہ دل، یہ شہرِ وفا کب اسے پسند آیا
وہ بے قرار تھا اس کو یہاں سے جانا تھا
نظر میں رکھا نہیں ایک بھی ستارہ تِرا
کہ خاک زاد تھے ہم آسماں سے جانا تھا
ایک منظر میں سیاہی خیمہ زن ہوتی ہوئی
دوسرے منظر میں روشن اک کرن ہوتی ہوئی
وقت نے کیسے گوارا کر لیا یہ سانحہ؟
ساعتِ شہرِ اماں اور بے وطن ہوتی ہوئی
کس طرح دیکھی گئی ہو گی ہوائے عصر سے
ریگِ صحرا پھول جسموں پر کفن ہوتی ہوئی
کون کہتا ہے محبت نہیں رہتی مجھ میں
بس وہ اظہار کی عادت نہیں رہتی مجھ میں
ایک روٹین سی ہو جاتی ہے کچھ عرصہ بعد
اور پھر خواہشِ خدمت نہیں رہتی مجھ میں
جی تو کرتا ہے شبِ ماہ میں گھوموں لیکن
شام کے بعد اجازت نہیں رہتی مجھ میں
بات کرنی ہے اگر پھر نئے اِمکان کی یار
پہلے تفسیر پڑھو میر کے دیوان کی یار
شاہزادے سہی تم یار بھی تو ہو میرے
کبھی عزت بھی تو کر لیتے ہیں انسان کی یار
میری گُفتار سے کردار کا اندازہ کر
مجھ سے مت پوچھ مِرے مذہب و ایمان کی یار