Showing posts with label خاور اعجاز. Show all posts
Showing posts with label خاور اعجاز. Show all posts

Saturday, 2 October 2021

کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں

 کب تک مہکے گی بے آس گلابوں میں

مر جائے گی خوشبو بند کتابوں میں

کبھی درونِ ذات کے منظر تھے ان میں

کنکر ہی کنکر ہیں اب تالابوں میں

ہاتھ لگاتے ہی مٹی کا ڈھیر ہوئے

کیسے کیسے رنگ بھرے تھے خوابوں میں

Thursday, 30 September 2021

چراغ شوق جلا کر کہاں سے جانا تھا

 چراغِ شوق جلا کر کہاں سے جانا تھا

ہمیں تو ہو کے صفِ دشمناں سے جانا تھا

یہ دل، یہ شہرِ وفا کب اسے پسند آیا

وہ بے قرار تھا اس کو یہاں سے جانا تھا

نظر میں رکھا نہیں ایک بھی ستارہ تِرا

کہ خاک زاد تھے ہم آسماں سے جانا تھا

Wednesday, 29 September 2021

ایک منظر میں سیاہی خیمہ زن ہوتی ہوئی

 ایک منظر میں سیاہی خیمہ زن ہوتی ہوئی

دوسرے منظر میں روشن اک کرن ہوتی ہوئی

وقت نے کیسے گوارا کر لیا یہ سانحہ؟

ساعتِ شہرِ اماں اور بے وطن ہوتی ہوئی

کس طرح دیکھی گئی ہو گی ہوائے عصر سے

ریگِ صحرا پھول جسموں پر کفن ہوتی ہوئی

Tuesday, 28 September 2021

کون کہتا ہے محبت نہیں رہتی مجھ میں

 کون کہتا ہے محبت نہیں رہتی مجھ میں

بس وہ اظہار کی عادت نہیں رہتی مجھ میں

ایک روٹین سی ہو جاتی ہے کچھ عرصہ بعد

اور پھر خواہشِ خدمت نہیں رہتی مجھ میں

جی تو کرتا ہے شبِ ماہ میں گھوموں لیکن

شام کے بعد اجازت نہیں رہتی مجھ میں

Sunday, 6 June 2021

بات کرنی ہے اگر پھر نئے امکان کی یار

 بات کرنی ہے اگر پھر نئے اِمکان کی یار

پہلے تفسیر پڑھو میر کے دیوان کی یار

شاہزادے سہی تم یار بھی تو ہو میرے

کبھی عزت بھی تو کر لیتے ہیں انسان کی یار

میری گُفتار سے کردار کا اندازہ کر

مجھ سے مت پوچھ مِرے مذہب و ایمان کی یار