Showing posts with label نازیہ رشید. Show all posts
Showing posts with label نازیہ رشید. Show all posts

Friday, 31 July 2026

میرا مزاج دعاؤں جیس

 میرا مزاج دعاؤں جیسا

وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا

مرادیں کیسے بر آتی

وہ غرو پرور اناؤں جیسا

میں ہوں وہ ساون 

جو جم کے برسے

Sunday, 15 March 2026

عقل نے چھین لی بنیائی دل کی

 عقل نے چھین لی بنیائی دل کی 

ایک شاعرہ کو محبت نہیں کرنے دیتی 

اب سونے کی بھی کوشش کروں تو

شناسائی خواب نہیں بُننے دیتی  

مجھ کو پسند ہیں گلاب بہت مگر

زخمی پوریں کلیاں نہیں چُننے دیتی

Saturday, 20 July 2024

میں خفا ہوں خود سے مدت سے

 میں خفا ہوں خُود سے مُدت سے

ہو سکے تو صُلح کرا دے کوئی

مجھے مجھ سے بچھڑے مُدت ہوئی 

مجھے مجھ سے اب ملا دے کوئی

ہے غم سے دل پتھر ہوا

اب لگ کے گلے رُلا دے کوئی

Sunday, 7 July 2024

روح من یہ ضروری تو نہیں ہر عورت کی خوشی

 روحِ من یہ ضروری تو نہیں 

ہر عورت کی خوشی 

سونے چاندی ہی سے منسوب ہو

میں تو آپ کے سنگ 

دنیا دیکھنا چاہتی ہوں 

شاعری کرنا چاہتی ہوں

مصوری سیکھنا چاہتی ہوں

Saturday, 6 July 2024

کبھی ناراض مت ہونا

کبھی ناراض مت ہونا

گلے چاہے بہت کرنا

رُلانا اور بہت لڑنا

سنو ناراض مت ہونا

کبھی ایسا جو ہو جائے

کہ تیری یاد سے غافل