میرا مزاج دعاؤں جیسا
وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا
مرادیں کیسے بر آتی
وہ غرو پرور اناؤں جیسا
میں ہوں وہ ساون
جو جم کے برسے
میرا مزاج دعاؤں جیسا
وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا
مرادیں کیسے بر آتی
وہ غرو پرور اناؤں جیسا
میں ہوں وہ ساون
جو جم کے برسے
عقل نے چھین لی بنیائی دل کی
ایک شاعرہ کو محبت نہیں کرنے دیتی
اب سونے کی بھی کوشش کروں تو
شناسائی خواب نہیں بُننے دیتی
مجھ کو پسند ہیں گلاب بہت مگر
زخمی پوریں کلیاں نہیں چُننے دیتی
میں خفا ہوں خُود سے مُدت سے
ہو سکے تو صُلح کرا دے کوئی
مجھے مجھ سے بچھڑے مُدت ہوئی
مجھے مجھ سے اب ملا دے کوئی
ہے غم سے دل پتھر ہوا
اب لگ کے گلے رُلا دے کوئی
روحِ من یہ ضروری تو نہیں
ہر عورت کی خوشی
سونے چاندی ہی سے منسوب ہو
میں تو آپ کے سنگ
دنیا دیکھنا چاہتی ہوں
شاعری کرنا چاہتی ہوں
مصوری سیکھنا چاہتی ہوں
کبھی ناراض مت ہونا
گلے چاہے بہت کرنا
رُلانا اور بہت لڑنا
سنو ناراض مت ہونا
کبھی ایسا جو ہو جائے
کہ تیری یاد سے غافل