Showing posts with label عزیز اعجاز. Show all posts
Showing posts with label عزیز اعجاز. Show all posts

Wednesday, 14 September 2022

میں راہ دیکھ رہا تھا وہ جب بھی گھر آئے

 میں راہ دیکھ رہا تھا وہ جب بھی گھر آئے

چلے گئے تو مجھے دور تک نظر آئے

پھر ایک رات عجب شوخ چاندنی چٹکی

پھر ایک شب وہ لبِ بام سے اتر آئے

تم اپنا پھول سا چہرہ نہ سانولا کرنا

اگر کبھی کوئی اڑتی ہوئی خبر آئے

Saturday, 13 August 2022

جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

 جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

جانے کون گزرتا ہے اس رستے سے

یہ رستہ ہر روز منور ہوتا ہے

درد کے مارو اتنا ضبط نہیں کرتے

تھوڑا سا رو لینا بہتر ہوتا ہے

Wednesday, 3 August 2022

حسن ہر گھاٹ کا دیکھا ہے جہاندیدہ ہوں

 حُسن ہر گھاٹ کا دیکھا ہے، جہانْدیدہ ہوں

پیکرِ ناز! میں پھر بھی تِرا گرویدہ ہوں

کھیل کھیلا ہے محبت کا کئی بار، مگر

تجھ کو دیکھا ہے تو اس بار میں سنجیدہ ہوں

مجھ کو مت جانچ، ریاضی کے سوالوں کی طرح

نہ میں آسان بہت ہوں، نہ میں پیچیدہ ہوں

Tuesday, 2 August 2022

شکایت یہ نہ تھی تو اور کرتے

 شکایت یہ نہ تھی تو اور کرتے

گِلہ تم سے تو ہم ہر طور کرتے

سِتم سے کب تمہیں فُرصت ملی ہے

کہ تم ٹُوٹے دلوں پر غور کرتے

مبارک ہو تمہیں ترکِ تعلق

مگر پوری تو رسمِ جور کرتے

Thursday, 17 March 2022

جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر

 جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر

کل رات میں رویا تِری دیوار سے لگ کر

ہر ایک کے چہرے پہ ہے تشویش نمایاں

بیٹھے ہیں مسیحا تِرے بیمار سے لگ کر

پھولوں کی محبت نے سبق مجھ کو سکھایا

زخمی جو ہوئے ہاتھ مِرے خار سے لگ کر