میں راہ دیکھ رہا تھا وہ جب بھی گھر آئے
چلے گئے تو مجھے دور تک نظر آئے
پھر ایک رات عجب شوخ چاندنی چٹکی
پھر ایک شب وہ لبِ بام سے اتر آئے
تم اپنا پھول سا چہرہ نہ سانولا کرنا
اگر کبھی کوئی اڑتی ہوئی خبر آئے
میں راہ دیکھ رہا تھا وہ جب بھی گھر آئے
چلے گئے تو مجھے دور تک نظر آئے
پھر ایک رات عجب شوخ چاندنی چٹکی
پھر ایک شب وہ لبِ بام سے اتر آئے
تم اپنا پھول سا چہرہ نہ سانولا کرنا
اگر کبھی کوئی اڑتی ہوئی خبر آئے
جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
جانے کون گزرتا ہے اس رستے سے
یہ رستہ ہر روز منور ہوتا ہے
درد کے مارو اتنا ضبط نہیں کرتے
تھوڑا سا رو لینا بہتر ہوتا ہے
حُسن ہر گھاٹ کا دیکھا ہے، جہانْدیدہ ہوں
پیکرِ ناز! میں پھر بھی تِرا گرویدہ ہوں
کھیل کھیلا ہے محبت کا کئی بار، مگر
تجھ کو دیکھا ہے تو اس بار میں سنجیدہ ہوں
مجھ کو مت جانچ، ریاضی کے سوالوں کی طرح
نہ میں آسان بہت ہوں، نہ میں پیچیدہ ہوں
شکایت یہ نہ تھی تو اور کرتے
گِلہ تم سے تو ہم ہر طور کرتے
سِتم سے کب تمہیں فُرصت ملی ہے
کہ تم ٹُوٹے دلوں پر غور کرتے
مبارک ہو تمہیں ترکِ تعلق
مگر پوری تو رسمِ جور کرتے
جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر
کل رات میں رویا تِری دیوار سے لگ کر
ہر ایک کے چہرے پہ ہے تشویش نمایاں
بیٹھے ہیں مسیحا تِرے بیمار سے لگ کر
پھولوں کی محبت نے سبق مجھ کو سکھایا
زخمی جو ہوئے ہاتھ مِرے خار سے لگ کر