میں راہ دیکھ رہا تھا وہ جب بھی گھر آئے
چلے گئے تو مجھے دور تک نظر آئے
پھر ایک رات عجب شوخ چاندنی چٹکی
پھر ایک شب وہ لبِ بام سے اتر آئے
تم اپنا پھول سا چہرہ نہ سانولا کرنا
اگر کبھی کوئی اڑتی ہوئی خبر آئے
یہ اور بات کہ میں نے بھلا دیا ان کو
مجھے وہ یاد مگر بات بات پر آئے
تِری گلی میں قدم لڑکھڑا گئے اے دوست
تمام سخت مقامات سے گزر آئے
کسے خبر کہ وہ کس کرب سے گزرتا ہے
کسی کو نیند نہ جب رات رات بھر آئے
مین رات رات گئے کانپ کانپ اٹھتا ہوں
ہوا چلے سے بھی اعجاز مجھ کو ڈر آئے
عزیز اعجاز
No comments:
Post a Comment