Wednesday, 14 September 2022

میں راہ دیکھ رہا تھا وہ جب بھی گھر آئے

 میں راہ دیکھ رہا تھا وہ جب بھی گھر آئے

چلے گئے تو مجھے دور تک نظر آئے

پھر ایک رات عجب شوخ چاندنی چٹکی

پھر ایک شب وہ لبِ بام سے اتر آئے

تم اپنا پھول سا چہرہ نہ سانولا کرنا

اگر کبھی کوئی اڑتی ہوئی خبر آئے

یہ اور بات کہ میں نے بھلا دیا ان کو

مجھے وہ یاد مگر بات بات پر آئے

تِری گلی میں قدم لڑکھڑا گئے اے دوست

تمام سخت مقامات سے گزر آئے

کسے خبر کہ وہ کس کرب سے گزرتا ہے

کسی کو نیند نہ جب رات رات بھر آئے

مین رات رات گئے کانپ کانپ اٹھتا ہوں

ہوا چلے سے بھی اعجاز مجھ کو ڈر آئے


عزیز اعجاز

No comments:

Post a Comment