گر مِرا ہوتا تو وہ ایسے پرایا ہوتا
میری میت پہ مِرے سامنے آیا ہوتا
میں اسے دل کے نہاں خانے میں رکھتا ایسے
نہ گیا ہوتا کوئی اور نہ آیا ہوتا
ظلم ڈھایا ہے زمانے کی ہواؤں نے بہت
ہائے، افسوس نہ یہ دیپ جلایا ہوتا
کتنی آسان سی ہو جاتی یہ رنجور حیات
اس کو اس دل میں نہ یوں اپنے بسایا ہوتا
آج کے دن مجھے بخشا گیا ہجر بے باک
سوچ کے گھر کو یونہی آج سجایا ہوتا
کاش اس عشق سے بہتر تھا کہ تنہا تو نے
رنج و آلام کو ہی دوست بنایا ہوتا
عاصم تنہا
No comments:
Post a Comment