Showing posts with label بلال صابر. Show all posts
Showing posts with label بلال صابر. Show all posts

Monday, 15 December 2025

نبی کی خوشبو نبی کا جمال کیا کہنے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نبیﷺ کی خوشبو نبیؐ کا جمال، کیا کہنے

زمین تیرے تریسٹھ وہ سال، کیا کہنے

نظر کے سامنے طیبہ ہے اور سبب ہے تُو

اے نعتِ سرورِ دیںﷺ کے خیال کیا کہنے

میں نعت کہتے ہوئے مر گیا تو لکھ دینا

ہوا ہے طیبہ میں وہ انتقال، کیا کہنے

Saturday, 22 June 2024

کفن لپیٹ کے نکلے ہیں صاحبان حسین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کفن لپیٹ کے نکلے ہیں صاحبانِ حسینؑ

چلا ہے دِین بچانے کو کاروانِ حسینؑ

ہے جشن کیسا؟ محرّم میں عاشقانِ حسینؑ

اسی مہینے میں لٹتا ہے خاندان حسین

حضور دیکھیے لاکھوں یزید کے آگے

ہے چھ برس کی سکینہؑ سکون جانِ حسینؑ

Tuesday, 5 April 2022

Friday, 25 February 2022

مری صدا کو کر کے ان سنی کہیں چلی گئی

 مِری صدا کو کر کے ان سُنی کہیں چلی گئی

وہ آئیں، اور ان کی یاد اٹھی، کہیں چلی گئی

عجب چمک تھی اس کے رخ کو دیکھتے ہی یہ ہوا

ان آنکھوں کی تمام روشنی کہیں چلی گئی

فلک پہ میری دلربا گئی، تو اس کو دیکھ کر

وہاں جو سب سے خوب تھی پری کہیں چلی گئی

Sunday, 28 November 2021

دل کے قفس سے آج اڑا دیجئے مجھے

 دل کے قفس سے آج اڑا دیجئے مجھے

یوں کیجئے جناب! گنوا دیجئے مجھے

یہ لیجئے، ہے آپ کا سارا وجود اور

میں آپ سے ہوں جتنا بچا دیجئے مجھے

ہنسنے کا تو کہا تھا؛ مگر یہ نہیں کہا

یوں مسکرا کے اور رُلا دیجئے مجھے

Saturday, 27 November 2021

سب کہیں گے میری ہر بات پہ ماشاء اللہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سب کہیں گے میری ہر بات پہ ماشاء اللہ

کہہ دیں آقاﷺ جو مِری نعت پہ ماشاء اللہ

سرورِ دِیںﷺ کی بدولت ہی مدینہ تیری

صبح اور شام پہ دن، رات پہ ماشاء اللہ

مصطفیٰؐ کرتے تھے جس لمحہ تلاوت اس پل

ہوتا ہو گا لبِ آیات پہ ماشاء اللہ

Tuesday, 28 September 2021

تیری یاد آتی ہے کیا میں یاد آتا ہوں

 تیری یاد آتی ہے


مان لیجیۓ

اس پَل اپنا غم چُھپاتا ہوں

جان بُوجھ کر جب جب قہقہہ لگاتا ہوں

خط میں اس کو لکھے ہیں

میں نے صرف دو جملے

Monday, 27 September 2021

یہ سب جو بھی کہا میں نے سنا تم نے

 اشارہ ہے


وہ کہتی ہے؛ 

کہ تم میری وجہ سے

آج تک

ناکام بیٹھے ہو

اگر تم اور

تمہاری محنتوں کے درمیاں سے

Friday, 24 September 2021

آ جا دکھا کہ تجھ میں ہے کس بات کا گھمنڈ

 آ جا، دکھا، کہ تجھ میں ہے کس بات کا گھمنڈ

زلفیں بکھیر، توڑ دے اب رات کا گھمنڈ

تحفے میں جب سے دی ہے مجھے اس نے اک گھڑی

اس دن سے بڑھ گیا ہے مِرے ہاتھ کا گھمنڈ

کومل ہتھیلیوں سے اُچھالا ہے اس نے آب

اس واسطے ہی ٹُوٹا ہے برسات کا گھمنڈ

Monday, 1 March 2021

عدو کے وار سے مجھ کو بچا کے نوچتے ہیں

 عدو کے وار سے مجھ کو بچا کے نوچتے ہیں

مِرے عزیز گلے سے لگا کے نوچتے ہیں

انہیں بھلاؤں تو کانٹے بھی نرم لگتے ہیں

کروں جو یاد تو ریشم بھی آ کے نوچتے ہیں

مشاہدے سے یہ جانا ہے یار! محفل میں

بٹھا کے پاس مجھے مسکرا کے نوچتے ہیں

Sunday, 6 December 2020

کسی پہ وقت یہ ہرگز نہ آئے بارش میں

 کسی پہ وقت یہ ہرگز نہ آئے بارش میں

کہ آنکھ تر ہو مگر مسکرائے بارش میں

نشست ہو گی بہت خاص واسطے میرے

مری غزل وہ مجھے جب سنائے بارش میں

قسم سے لطف بھی دگنا ہی آتا موسم کا

تمہارے ہاتھ کی ملتی جو چائے بارش میں