عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیﷺ کی خوشبو نبیؐ کا جمال، کیا کہنے
زمین تیرے تریسٹھ وہ سال، کیا کہنے
نظر کے سامنے طیبہ ہے اور سبب ہے تُو
اے نعتِ سرورِ دیںﷺ کے خیال کیا کہنے
میں نعت کہتے ہوئے مر گیا تو لکھ دینا
ہوا ہے طیبہ میں وہ انتقال، کیا کہنے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نبیﷺ کی خوشبو نبیؐ کا جمال، کیا کہنے
زمین تیرے تریسٹھ وہ سال، کیا کہنے
نظر کے سامنے طیبہ ہے اور سبب ہے تُو
اے نعتِ سرورِ دیںﷺ کے خیال کیا کہنے
میں نعت کہتے ہوئے مر گیا تو لکھ دینا
ہوا ہے طیبہ میں وہ انتقال، کیا کہنے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کفن لپیٹ کے نکلے ہیں صاحبانِ حسینؑ
چلا ہے دِین بچانے کو کاروانِ حسینؑ
ہے جشن کیسا؟ محرّم میں عاشقانِ حسینؑ
اسی مہینے میں لٹتا ہے خاندان حسین
حضور دیکھیے لاکھوں یزید کے آگے
ہے چھ برس کی سکینہؑ سکون جانِ حسینؑ
اشارہ ہے
وہ کہتی ہے
کہ تم میری وجہ سے
آج تک
ناکام بیٹھے ہو
اگر تم
مِری صدا کو کر کے ان سُنی کہیں چلی گئی
وہ آئیں، اور ان کی یاد اٹھی، کہیں چلی گئی
عجب چمک تھی اس کے رخ کو دیکھتے ہی یہ ہوا
ان آنکھوں کی تمام روشنی کہیں چلی گئی
فلک پہ میری دلربا گئی، تو اس کو دیکھ کر
وہاں جو سب سے خوب تھی پری کہیں چلی گئی
دل کے قفس سے آج اڑا دیجئے مجھے
یوں کیجئے جناب! گنوا دیجئے مجھے
یہ لیجئے، ہے آپ کا سارا وجود اور
میں آپ سے ہوں جتنا بچا دیجئے مجھے
ہنسنے کا تو کہا تھا؛ مگر یہ نہیں کہا
یوں مسکرا کے اور رُلا دیجئے مجھے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
سب کہیں گے میری ہر بات پہ ماشاء اللہ
کہہ دیں آقاﷺ جو مِری نعت پہ ماشاء اللہ
سرورِ دِیںﷺ کی بدولت ہی مدینہ تیری
صبح اور شام پہ دن، رات پہ ماشاء اللہ
مصطفیٰؐ کرتے تھے جس لمحہ تلاوت اس پل
ہوتا ہو گا لبِ آیات پہ ماشاء اللہ
تیری یاد آتی ہے
مان لیجیۓ
اس پَل اپنا غم چُھپاتا ہوں
جان بُوجھ کر جب جب قہقہہ لگاتا ہوں
خط میں اس کو لکھے ہیں
میں نے صرف دو جملے
اشارہ ہے
وہ کہتی ہے؛
کہ تم میری وجہ سے
آج تک
ناکام بیٹھے ہو
اگر تم اور
تمہاری محنتوں کے درمیاں سے
آ جا، دکھا، کہ تجھ میں ہے کس بات کا گھمنڈ
زلفیں بکھیر، توڑ دے اب رات کا گھمنڈ
تحفے میں جب سے دی ہے مجھے اس نے اک گھڑی
اس دن سے بڑھ گیا ہے مِرے ہاتھ کا گھمنڈ
کومل ہتھیلیوں سے اُچھالا ہے اس نے آب
اس واسطے ہی ٹُوٹا ہے برسات کا گھمنڈ
عدو کے وار سے مجھ کو بچا کے نوچتے ہیں
مِرے عزیز گلے سے لگا کے نوچتے ہیں
انہیں بھلاؤں تو کانٹے بھی نرم لگتے ہیں
کروں جو یاد تو ریشم بھی آ کے نوچتے ہیں
مشاہدے سے یہ جانا ہے یار! محفل میں
بٹھا کے پاس مجھے مسکرا کے نوچتے ہیں
کسی پہ وقت یہ ہرگز نہ آئے بارش میں
کہ آنکھ تر ہو مگر مسکرائے بارش میں
نشست ہو گی بہت خاص واسطے میرے
مری غزل وہ مجھے جب سنائے بارش میں
قسم سے لطف بھی دگنا ہی آتا موسم کا
تمہارے ہاتھ کی ملتی جو چائے بارش میں