Showing posts with label ابوالحسنات حقی. Show all posts
Showing posts with label ابوالحسنات حقی. Show all posts

Thursday, 13 November 2025

کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے

 کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے

کہ سارا مرحلہ طے مجھ سے برملا ہوا ہے

نشستیں پر ہیں چراغ و ایاغ روشن ہیں

بس ایک میرے نہ ہونے سے آج کیا ہوا ہے

اٹھا کے رکھ دو کتاب فراق کو دل میں

کہ یہ فسانہ ازل سے مرا سنا ہوا ہے

Saturday, 16 August 2025

شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا

 شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا

کہ اس کا کوئی نہیں تھا مرا ٹھکانہ بھی کیا

یہ سچ ہے اس سے بچھڑ کر مجھے زمانہ ہوا

مگر وہ لوٹنا چاہے تو پھر زمانہ بھی کیا

میں ہر طرف ہوں وہ آئے شکار کر لے مجھے

جہاں ہدف ہی ہدف ہو تو پھر نشانہ بھی کیا

Sunday, 22 June 2025

ضمیر خاک شہ دو سرا میں روشن ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ضمیر خاک شہِ دو سراﷺ میں روشن ہے 

مِرا خدا مِرے حرفِ دعا میں روشن ہے 

وہ آندھیاں تھیں کہ میں کب کا بجھ گیا ہوتا 

چراغِ ذات بھی حمد و ثناء میں روشن ہے 

میں اپنی ماں کے وسیلے سے زندہ تر ٹھہروں 

کہ وہ لہو مِرے صبر و رضا میں روشن ہے