کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے
کہ سارا مرحلہ طے مجھ سے برملا ہوا ہے
نشستیں پر ہیں چراغ و ایاغ روشن ہیں
بس ایک میرے نہ ہونے سے آج کیا ہوا ہے
اٹھا کے رکھ دو کتاب فراق کو دل میں
کہ یہ فسانہ ازل سے مرا سنا ہوا ہے
کبھی وہ خوش بھی رہا ہے کبھی خفا ہوا ہے
کہ سارا مرحلہ طے مجھ سے برملا ہوا ہے
نشستیں پر ہیں چراغ و ایاغ روشن ہیں
بس ایک میرے نہ ہونے سے آج کیا ہوا ہے
اٹھا کے رکھ دو کتاب فراق کو دل میں
کہ یہ فسانہ ازل سے مرا سنا ہوا ہے
شکست عہد پر اس کے سوا بہانہ بھی کیا
کہ اس کا کوئی نہیں تھا مرا ٹھکانہ بھی کیا
یہ سچ ہے اس سے بچھڑ کر مجھے زمانہ ہوا
مگر وہ لوٹنا چاہے تو پھر زمانہ بھی کیا
میں ہر طرف ہوں وہ آئے شکار کر لے مجھے
جہاں ہدف ہی ہدف ہو تو پھر نشانہ بھی کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ضمیر خاک شہِ دو سراﷺ میں روشن ہے
مِرا خدا مِرے حرفِ دعا میں روشن ہے
وہ آندھیاں تھیں کہ میں کب کا بجھ گیا ہوتا
چراغِ ذات بھی حمد و ثناء میں روشن ہے
میں اپنی ماں کے وسیلے سے زندہ تر ٹھہروں
کہ وہ لہو مِرے صبر و رضا میں روشن ہے