راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مِرا
وہ مجھے روئے یہ کہہ کر ہائے دیوانا مرا
غیر کو ساقی نے جب بھر کر دیا جام شراب
آنسوؤں سے ہو گیا لبریز پیمانا مرا
میرے رونے پر وہ ان کا مسکرانا بار بار
اور بلائیں لے کے وہ قدموں پہ گر جانا مرا
راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مِرا
وہ مجھے روئے یہ کہہ کر ہائے دیوانا مرا
غیر کو ساقی نے جب بھر کر دیا جام شراب
آنسوؤں سے ہو گیا لبریز پیمانا مرا
میرے رونے پر وہ ان کا مسکرانا بار بار
اور بلائیں لے کے وہ قدموں پہ گر جانا مرا
کون سا عشقِ بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوا
دردِ فرقت نہ ہوا، غم نہ ہوا، کیا نہ ہوا
غیر نے بات تو کی بات تو پوچھی میری
خیر سے تم کو تو اتنا بھی سلیقہ نہ ہوا
محوِ حیرت ہیں تو دونوں ہیں تِری محفل میں
ہم سے پردہ ہوا، آئینے سے پردا نہ ہوا
ان کی خلوت میں رسا بھی ہو گا
کبھی یوں حکم خدا بھی ہو گا
مجھ پہ جو تُو نے ستم ڈھایا ہے
کہیں دنیا میں ہوا بھی ہو گا
صبر والوں کا بھی دن آئے گا
ایک دن روزِ جزا بھی ہو گا
ساقی جو دئیے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جا
تو میں بھی پئے جاؤں یہ کہہ کر کہ دئیے جا
جانے کی جو ضد ہے تو مجھے زہر دئیے جا
اتنا تو کہا مان لے،۔ اتنا تو کئے جا
کچھ اور نہ کر مجھ پہ جفائیں تو کئے جا
کچھ اور نہ لے میری دعائیں تو لیے جا
دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے
سیکھو ابھی سلیقے کچھ روز دلبری کے
فرقت میں اشک حسرت ہم کیا بہا رہے ہیں
تقدیر رو رہی ہے پردے میں بے کسی کے
آئے اگر قیامت تو دھجیاں اڑا دیں
پھرتے ہیں جستجو میں فتنے تِری گلی کے
آنے کو نظر میں مِری سو فتنہ گر آئے
تجھ سا نظر آیا ہے نہ تجھ سا نظر آئے
کھل جائے بھرم ضبط محبت کا نہ ان پر
ڈرتا ہوں کہیں آنکھ میں آنسو نہ بھر آئے
مے خانے پہ کیا ابر ہے چھایا ہوا یا رب
جلوے تِری رحمت کے یہاں بھی نظر آئے