Showing posts with label رسا رامپوری. Show all posts
Showing posts with label رسا رامپوری. Show all posts

Wednesday, 9 March 2022

راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مرا

 راس آیا ہے مجھے وحشت میں مر جانا مِرا

وہ مجھے روئے یہ کہہ کر ہائے دیوانا مرا

غیر کو ساقی نے جب بھر کر دیا جام شراب

آنسوؤں سے ہو گیا لبریز پیمانا مرا

میرے رونے پر وہ ان کا مسکرانا بار بار

اور بلائیں لے کے وہ قدموں پہ گر جانا مرا

Friday, 17 December 2021

کون سا عشق بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوا

 کون سا عشقِ بتاں میں ہمیں صدمہ نہ ہوا

دردِ فرقت نہ ہوا، غم نہ ہوا، کیا نہ ہوا

غیر نے بات تو کی بات تو پوچھی میری

خیر سے تم کو تو اتنا بھی سلیقہ نہ ہوا

محوِ حیرت ہیں تو دونوں ہیں تِری محفل میں

ہم سے پردہ ہوا، آئینے سے پردا نہ ہوا

Thursday, 16 December 2021

ان کی خلوت میں رسا بھی ہو گا

 ان کی خلوت میں رسا بھی ہو گا

کبھی یوں حکم خدا بھی ہو گا

مجھ پہ جو تُو نے ستم ڈھایا ہے

کہیں دنیا میں ہوا بھی ہو گا

صبر والوں کا بھی دن آئے گا

ایک دن روزِ جزا بھی ہو گا

Friday, 19 November 2021

ساقی جو دئیے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جا

ساقی جو دئیے جائے یہ کہہ کر کہ پئے جا

تو میں بھی پئے جاؤں یہ کہہ کر کہ دئیے جا

جانے کی جو ضد ہے تو مجھے زہر دئیے جا

اتنا تو کہا مان لے،۔ اتنا تو کئے جا

کچھ اور نہ کر مجھ پہ جفائیں تو کئے جا

کچھ اور نہ لے میری دعائیں تو لیے جا

Wednesday, 28 July 2021

دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے

 دل میں کسی کو رکھو دل میں رہو کسی کے

سیکھو ابھی سلیقے کچھ روز دلبری کے

فرقت میں اشک حسرت ہم کیا بہا رہے ہیں

تقدیر رو رہی ہے پردے میں بے کسی کے

آئے اگر قیامت تو دھجیاں اڑا دیں

پھرتے ہیں جستجو میں فتنے تِری گلی کے

Saturday, 8 May 2021

آنے کو نظر میں مری سو فتنہ گر آئے

آنے کو نظر میں مِری سو فتنہ گر آئے 

تجھ سا نظر آیا ہے نہ تجھ سا نظر آئے 

کھل جائے بھرم ضبط محبت کا نہ ان پر 

ڈرتا ہوں کہیں آنکھ میں آنسو نہ بھر آئے 

مے خانے پہ کیا ابر ہے چھایا ہوا یا رب 

جلوے تِری رحمت کے یہاں بھی نظر آئے