Showing posts with label نوشابہ ہاشمی. Show all posts
Showing posts with label نوشابہ ہاشمی. Show all posts

Sunday, 7 June 2026

امن کی فاختہ بناتے ہوئے پر تلک جل گئے

 امن کی فاختہ بناتے ہوئے

پر تلک جل گئے اُڑاتے ہوئے

من سے خالی ہے اس لیے تجھ کو

طفل بھاتے نہیں ستاتے ہیں

لوٹ آئے گا وہ مِری خاطر

بس دلاسہ تھا اس کے جاتے ہوئے

Monday, 23 February 2026

بھلے دریا کا پانی ہو کہ اشکوں کی روانی ہو

 تمہیں کیا ہے


بھلے دریا کا پانی ہو

کہ اشکوں کی روانی ہو

کوئی اپنا پرایا ہو

ہمارا ہو

شجر کا آخری پتا

خزاں کا استعارہ ہو

Sunday, 1 February 2026

خاموشی شور کرتی ہے

 خاموشی شور کرتی ہے


کبھی بیلے کی ان بیلوں کو چھوؤ تو

جو ان دیکھی مسافت کے جزیروں پر

تمہارے نام کی دنیاؤں کو آباد کرتی ہیں

سخن ایجاد کرتی ہیں

سرِ شب رقص کرتی جھلملاتی چاندنی

اور آنکھ کی یہ پُتلیاں دیکھو

Friday, 9 January 2026

تنہائی کو میلہ کر دو

 تنہائی کو میلہ کر دو

میرا سپنا سچا کر دو

انگلی رکھ دو میرے لب پر

میری بات کو میٹھا کر دو

آنکھ کے منظر میں آ بیٹھو

ہر منظر ہو اُجلا کر دو

تم اگر زخم ہوتے تو بھر جاتے

تم


تم اگر زخم ہوتے

تو بھر جاتے کب کے

اگر رنج ہوتے

تو میں بھول جاتی

اگر پاپ ہوتے

تو دھو ڈالتی میں

Thursday, 8 January 2026

کیسی برکت ترے درود میں ہے

 کیسی برکت تِرے درود میں ہے

اک ستارہ مِرے وجود میں ہے

وسوسے، ڈر، گُمان ہیں سب ہیچ

اک یقیں اب مِرے ورود میں ہے

سرحدوں پر بھی ہے نظر میری

دائرہ کار بھی حدود میں ہے