امن کی فاختہ بناتے ہوئے
پر تلک جل گئے اُڑاتے ہوئے
من سے خالی ہے اس لیے تجھ کو
طفل بھاتے نہیں ستاتے ہیں
لوٹ آئے گا وہ مِری خاطر
بس دلاسہ تھا اس کے جاتے ہوئے
امن کی فاختہ بناتے ہوئے
پر تلک جل گئے اُڑاتے ہوئے
من سے خالی ہے اس لیے تجھ کو
طفل بھاتے نہیں ستاتے ہیں
لوٹ آئے گا وہ مِری خاطر
بس دلاسہ تھا اس کے جاتے ہوئے
تمہیں کیا ہے
بھلے دریا کا پانی ہو
کہ اشکوں کی روانی ہو
کوئی اپنا پرایا ہو
ہمارا ہو
شجر کا آخری پتا
خزاں کا استعارہ ہو
خاموشی شور کرتی ہے
کبھی بیلے کی ان بیلوں کو چھوؤ تو
جو ان دیکھی مسافت کے جزیروں پر
تمہارے نام کی دنیاؤں کو آباد کرتی ہیں
سخن ایجاد کرتی ہیں
سرِ شب رقص کرتی جھلملاتی چاندنی
اور آنکھ کی یہ پُتلیاں دیکھو
تنہائی کو میلہ کر دو
میرا سپنا سچا کر دو
انگلی رکھ دو میرے لب پر
میری بات کو میٹھا کر دو
آنکھ کے منظر میں آ بیٹھو
ہر منظر ہو اُجلا کر دو
تم
تم اگر زخم ہوتے
تو بھر جاتے کب کے
اگر رنج ہوتے
تو میں بھول جاتی
اگر پاپ ہوتے
تو دھو ڈالتی میں
کیسی برکت تِرے درود میں ہے
اک ستارہ مِرے وجود میں ہے
وسوسے، ڈر، گُمان ہیں سب ہیچ
اک یقیں اب مِرے ورود میں ہے
سرحدوں پر بھی ہے نظر میری
دائرہ کار بھی حدود میں ہے