Monday, 23 February 2026

بھلے دریا کا پانی ہو کہ اشکوں کی روانی ہو

 تمہیں کیا ہے


بھلے دریا کا پانی ہو

کہ اشکوں کی روانی ہو

کوئی اپنا پرایا ہو

ہمارا ہو

شجر کا آخری پتا

خزاں کا استعارہ ہو

منافع ہو، خسارہ ہو

کوئی طوفاں کا دھارا ہو

کہ دشت و ریگ میں جلتا

ہمارا جسم سارا ہو

کسی کا نقشِ پا ملنے کا

مبہم سا اشارہ ہو

تمہیں کیا ہے؟


نوشابہ حفیظ ہاشمی

No comments:

Post a Comment