تمہیں کیا ہے
بھلے دریا کا پانی ہو
کہ اشکوں کی روانی ہو
کوئی اپنا پرایا ہو
ہمارا ہو
شجر کا آخری پتا
خزاں کا استعارہ ہو
منافع ہو، خسارہ ہو
کوئی طوفاں کا دھارا ہو
کہ دشت و ریگ میں جلتا
ہمارا جسم سارا ہو
کسی کا نقشِ پا ملنے کا
مبہم سا اشارہ ہو
تمہیں کیا ہے؟
نوشابہ حفیظ ہاشمی
No comments:
Post a Comment