Tuesday, 24 February 2026

ہم جو دستِ طلب کے مارے ہیں

 ہم جو دستِ طلب کے مارے ہیں

“ساری دنیا کے غم ہمارے ہیں“

ہم طلب گار تھے کبھی ان کے

یہ جو روشن فلک پہ تارے ہیں

بھری دنیا میں کس طرح تنہا

پوچھ مت میں نے دن گزارے ہیں

سانس لیتے ہیں اب فقط یہ لوگ

عشق میں زندگی جو ہارے ہیں

اک طرف ہے بلال قاسم زیست

زیست کے اک طرف خسارے ہیں


بلال قاسم

No comments:

Post a Comment