Wednesday, 25 February 2026

چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم

 چاہتی ہے آخر کیا آگہی خدا معلوم

کتنے رنگ بدلے گی زندگی خدا معلوم

کل تو خیر اے رہبر تیرے ساتھ رہرو تھے

آج کس پہ ہنستی ہے گمرہی خدا معلوم

اب بھی صبح ہوتی ہے اب بھی دن نکلتا ہے

جا چھپی کہاں لیکن روشنی خدا معلوم

راستی گریزاں ہے آشتی ہراساں ہے

کس سے کس سے الجھے گا آدمی خدا معلوم

اب تو وقت آیا ہے ڈوب کر ابھرنے کا

کتنی کشتیاں ڈوبیں اور ابھی خدا معلوم

ذوق نغمۂ پیرائی تو ہی بڑھ کے دے آواز

کب سے غرق حیرت ہے خامشی خدا معلوم

صرف بھیک مانگی تھی ہم نے آدمیت کی

کیوں بپھر گئے یعقوب مدعی خدا معلوم


یعقوب عثمانی

No comments:

Post a Comment