آگ سے دُھلے آئینے
ہماری شکلیں آگ سے دُھلے آئینوں نے مسخ کر دیں
پھول کمہلانے کی تکلیف جلنے سے بہرحال کم ہے
بستی بستی پناہ ڈھونڈتے رسول
اور درزوں میں چھپے دھوکے
آسمان کس قدر دل گرفتہ ہے
میرا دل جیسے راکھ ہوتے ہوئے کسی ستارے کی آخری چیخ ہے
یہاں میری مٹی نے سچ کے پیر کاٹ کر
اسے کہنیوں کے بل چلنے پر مجبور کر دیا ہے
جھوٹ دن دہاڑے شہر میں دندناتا پھرتا ہے
اور شہر کے اونچے منارے سے
لٹکتا ہوا گھڑیال
غلط وقت بتانے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتا
سانپ کُھلی آستینوں سے جھانکتے ہیں
مگر ڈستے نہیں
کہ ڈسنے کے لیے کوئی آدم زاد بھی تو ہو
جسموں پہ فقط رنگے برنگے ملبوس ہیں
اندر بس کھوکھلی لاشوں کے سوا کچھ بھی نہیں
لاشیں کہ جنہیں
مکر و فریب کے آوارہ بھیڑیوں نے
چبا کر گلی کوچوں میں ٹہلنے کو چھوڑ دیا
اور ان کی سڑاند سے
تمام ذی روح بھاگ کر
نامعلوم بستیوں کی طرف ہجرت کر گئے ہیں
توقیر رضا
No comments:
Post a Comment