Friday, 6 February 2026

آپ کو سکے ملے چاندی ملی سونا ملا

 جنتا کی فریاد


آپ کو سکے ملے چاندی ملی سونا ملا

دولت آئی ہاتھ سامانِ طرب افزا ملا

گھر سے دروازے تک آنا بھی نزاکت پر ہے بار

جب نہیں موٹر رہا، اڑنے کو طیارا ملا

چپہ چپہ ملک کا ہے آپ کی املاک میں

دشت و کوہستاں ملے، جنگل ملا، دریا ملا

فوجیں آئی ہیں سلامی کے لیے شام و سحر

ہر جگہ بہرِ تحفظ ایک نیا دستا ملا

آپ جاتے ہیں جہاں آنکھوں پہ ملتی ہے جگہ

نرم و نازک آپ کے کتوں کو بھی گدا ملا

حُسن والوں پر نظر پڑتی ہے اُٹھتے بیٹھتے

جس طرف اُٹھیں نگاہیں چاند کا ٹُکڑا ملا

سجدہ گاہ اک جہاں ہے آستانہ آپ کا

تخت ففغوری ملا، تاجِ سرِ کِسرا ملا

آپ کی کیا بات ہے جو مُنہ سے نکلا ہو گیا

مختصر یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے چاہا ملا

ہاں مگر اتنا تو فرما دیجیے بہرِ خدا

آپ کی انمول آزادی سے ہم کو کیا ملا

در غلامی ہم نہ بودم زیر زنار ایں چنیں

کس مبادا در جہاں یا رب گرفتار ایں چنیں


علامہ سریر کابری

No comments:

Post a Comment